Urdu book · قیادت نامه

قیادت کا دیوالیہ پن

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

کے دائرہ سے نکال کر ملکی کش مکش کے دائرہ میں لانا، مجرمانہ حد تک ایک غلط فعل ہے۔ مزید یہ کہ اصل مسئلہ کے حل میں رکاوٹ بھی ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے ملک کے ہندوؤں کو اپنی مخالفت پر کھڑا کر دیا جائے۔ دور جمہوریت میں اس تووسیع کے معنی کیا ہیں، اس کو ہر آدمی سمجھ سکتا ہے۔ میں ذاتی طور پر دہلی کی کم از کم نصف درج مسجدوں کو جانتا ہوں جو ۱۹۷۲ کے بعد اغیار کے قبضہ میں چلی گئی تھیں۔ بعض مسلمانوں کے دل میں ان کا درد پیدا ہوا۔ خوش قسمتی سے یہ لوگ لیڈر نہیں تھے ۔ چناچہ انھوں نے خالص مقامی انداز میں اس کی بازیابی کی کوشش شروع کی ۔ انھوں نے نہ جلسہ جلوس کی دھوم مچائی۔ اور نہ اخبارات میں بیانات شائع کیے ۔ بس خاموش انداز میں دفتری اور قانونی کارروائی کرتے رہے ۔ انھیں اس کام میں مقامی ہندوؤں کا بھی موثر تعاون ملا۔ ان میں سے کئی مسجدوں کا رقبہ بابری مسجد سے بہت زیادہ بڑا تھا ۔ مگر یہ تمام مسجدیں مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں آگئیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جذباتی تقریریں کر کے ایک مسجد کو مقامی اسشو کے بجائے ملکی آشوب بنانا سستی لیڈری حاصل کرنے کی کوشش تو ہو سکتی ہے ، مگر وہ مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش ہر گز نہیں۔ ایودھیا کی بابری مسجد تحریک کے ”چیزمین“ کے جس انٹرویو کا ذکر اوپر ہوا ، اس کا ایک حصہ یہ ہے : سوال : کیا مسلم قائدین ایودھیا مارچ میں شریک ہوں گے ، یا مسلم قائدین گھر میں بیٹھیں گے اور عوام مارچ میں نقصان اٹھائیں گے ۔ جواب : ترتیب پر مختصر ہے۔ میں نے تو کوئی ایسی فوج نہیں دیکھی جس میں جنرل بھی آگے جاکر لڑتا ہے۔ کسی کا یہ کہنا احمقانہ ہے کہ صرف قائدین آگے چلے جائیں ۔ یہایہ کہنا کہ محض عوام ہی آگے رہیں قائدین آگے نہ آئیں ( افکار ملی ، ۳۱ مئی ۱۹۸۸، صفحہ ۲۴ ) بابری مسجد بریلی ( ۳۰ مارچ ۱۹۷۸) کے بعد سے بار بار مارچ (کوچ) کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے نام نہاد قائدین کی میٹنگیں ہوتی تھیں ، مگر ہر بار تاریخ کا تعین کیے بغیر میٹنگ برخوست ہو جاتی تھی۔ عام لوگ یہ خیال کرنے لگے تھے کہ مارچ کی تاریخ کا تعین اس لیے نہیں کیا جا رہا ہے کہ مارچ کے پر خطر اقدام میں لیڈر کو آگے رہنا پڑے گا ۔ اور لیڈر صرف ملت کے بچوں کو یتیم بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے، وہ اپنے بچوں کو یتیم بنانہیں چاہتا۔ مگر مذکورہ سوال و جواب بتا تاہے کہ لیڈر کے سیاسی ذہن نے غالباً اس مشکل کا حل دریافت کر لیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page