قیادت کا دیوالیہ پن
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
کا سامنا کرنا ہوگا ۔ تقریباً یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حالات میں اس قسم کا اقدام میرٹھ اور ملیانہ سے بھی زیادہ برے انجام کی طرف جان بوجھ کر چلانگ لگانے کے ہم معنی ثابت ہوگا ۔ سطحی قسم کے قائدین اس کے بعد " ظلم اور سازش " کے انکشاف میں سرگرم ہو جائیں گے ۔ مگر یقینی طور پر یہ مسلم قیادت کے دیوالیہ پن کا ثبوت ہوگا کہ کسی دوسرے کے ظلم اور سازش کا ۔ اور اگر لیڈر کا زرخیز دماغ کوئی عذر نکال کر اجودھیا مارچ کو ملتوی یا منسوخ کر دے تو یہ بلاشبہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ کیوں کہ ۳۰ مارچ ۱۹۸۷ء کی ریلی میں مسلم مقررین نے جس طرح فریق ثانی کو دھمکیاں دی تھیں ، اس کے بعد سے اب تک تمام چھوٹے بڑے مسلم قائدین جس طرح چیلنج کی زبان میں بات کرتے رہے ، جس طرح جلسوں کی بھیڑ میں بابری مسجد لے کے رہیں گے جیسے " فلک شگاف " نعرے لگائے جاتے رہے ، اس کے بعد مارچ کا التوا محض سادہ واقعہ نہیں ہو سکتا ۔ مسلمانوں نے الفاظ کے بے پناہ اسراف سے جو ملکی فضا بنائی ہے ، اس کے بعد اگر وہ اقدام سے باز رہتے ہیں تو یہ فریق ثانی کی نظر میں سخت ترین بزدلی کا مظاہرہ ہوگا جس کی تلافی مستقبل بعید تک بھی ناممکن ہوگی ۔ اس کے بعد وہ ذلت اور حقارت کے ایسے دور میں داخل ہو جائیں گے جس کا اب تک انھوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نااہل قیادت نے ہندوستانی مسلمانوں کو اب ایسے نازک مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں ان کے لیے انتخاب (Choice) بربادی اور غیر بربادی میں نہیں ہے ، بلکہ ایک بربادی اور دوسری بربادی میں ہے ۔ شاید عربی شاعر نے اسی قسم کی نکمی قیادت کے بارہ میں یہ شعر کہا بھت کہ جب کو کسی قوم کا سردار ہو جائے تو وہ ان کو ہلاکت کے گڑھ کے کی طرف لے جائے گا : إِذَا كَانَ العُرَابُ رَئِيسَ قَوْمٍ سَيَهْدِيهِمْ إِلَى دَارِ البَوَارِ یہاں ہم ہفت روزہ نئی دنیا (۳-۹ جون ۱۹۸۸ ) کا ایک پیرا گراف نقل کریں گے ۔ اس نے اجودھیا مارچ کے مسئلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے " خود کشی یا جہاد " کے عنوان کے تحت لکھا ہے : " کیا حق ہے اور کیا ناحق ، اس سے قطع نظر ، آج کے ہندوستان کی حقیقت یہ ہے کہ فاشسٹ اور فرقہ پرست عناصر اس مارچ کے سوال کو لے کر ہندوستان کے امن وامان کو آگ لگانے کی کوشش کریں گے ۔ سید شہاب الدین یا بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے کچھ لیڈر کتنی بھی من و شانتی کی بات کریں اور گاندھیائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader