قیادت نامہ
Urdu book, PDF p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
مشورہ ہے کہ جو فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوں اور اپنی عظمت کے نشانات کے درمیان رہتے ہوں۔ مگر اس کے بغیر وہ فسادات کی صورت میں اس کی قیمت ڈاکٹر رائٹ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو دو بڑی ادا کرتے رہیں گے، جو بہت مہنگی ہے۔ اس سلسلہ میں قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ساحلی مسلمان اور اندرونی ہمیں ماننا چاہیے کہ ہندو ساحلی علاقہ کے تجارت پیشہ علاقوں کے مسلمان۔ ساحلی مسلمانوں سے ان کی مراد مسلمانوں کے خلاف بہت کم یا بالکل توجہ نہیں دیتے: خاص طور پر جنوبی ہند کے مسلمان ہیں۔ اور اندرونی مسلمانوں سے مراد شمالی ہند کے مسلمان۔ دوسری قسم کے مسلمانوں کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ وہ یادگاری ذہن والے (Monument-conscious) ہیں۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو تاج محل اور لال قلعہ اور چار مینار کے درمیان رہتے ہیں۔ ان کا ذہن ابھی تک اُنہیں شاہی یادگاروں میں اٹکا ہوا ہے۔ یہ یادگاریں اُنہیں یہ بھولنے نہیں دیتیں کہ وہ کبھی اس ملک میں حکمراں طبقہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں پر مسلمان لکھنے والوں نے جو ڈاکٹر رائٹ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کچھ لکھا ہے، اس کے تقریباً تمام قابلِ ذکر حصہ کو راقم کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ذاتوں اور فرقوں میں بٹے الحروف نے پڑھا ہے۔ مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس ہوۓ سماج کا لازمی نتیجہ ہے: سلسلہ میں اردو یا عربی یا انگریزی میں جو کچھ لکھا گیا ہے ان سب پر مذکورہ امریکی مستشرق کی تحریر بھاری ہے۔ کسی بھی مسلم اہلِ قلم نے اس مسئلہ کا اتنا گہرا جائزہ نہیں پیش کیا جیسا کہ مذکورہ امریکی عالم نے پیش کیا۔ ڈاکٹر رائٹ نے حالات کے گہرے تجزیے کے بعد یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے ہندوستانی مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کہ وہ گزرے ہوئے ماضی کی پر فخر یادوں میں اٹکے غیر نمایاں بنالیں تاکہ وہ ہندو (اکثریتی فرقہ) کی غضب ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تک اپنے ناکی کا شکار نہ ہوں۔ یہ ایسے لوگوں کے لیے بہت سخت حال کو نہیں سمجھا اور نہ حال کے مطابق وہ اپنے لیے حقیقت پسندانہ منصوبہ بناسکے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے بہترین مشورہ یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس '' پچھلی سیٹ‘‘ پر بیٹھنے کے لیے راضی کر لیں جہاں حالات نے انھیں پہنچایا ہے۔ جدید ہندوستان میں باعزت مقام حاصل کرنے کا یہی وہ واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا جو راستے ان کے لیڈر پیش کر رہے ہیں وہ صرف بربادی میں اضافہ کرنے والے ہیں نہ کہ کامیابی کی طرف لے جانے والے۔ ۳۹۷۱ء میں ایرانی حکمراں نادرشاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا اور دہلی کے مسلمانوں کو لوٹا اور ان کا قتل عام کیا۔ یہ بے حد سخت لمحہ تھا۔ لوگوں نے وقت کے بزرگ حضرت مرزا مظہر جانجاں سے اس کی شکایت کی۔ انھوں ایسا نہیں کیا کہ نادر شاہ پر ذمہ داری ڈال کر اس کو لعنت ملامت کرنے لگیں۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ فرمایا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ ہماری اپنی ہی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ اس لیے سب سے زیادہ اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ کر یہ دراصل خود ہمارے برے اعمال ہیں جنھوں نے نادر کی صورت اختیار کرلی ہے: شامتِ اعمال ما صورتِ نادر گرفت ماہنامہ الفرقان ( جولائی ۷۱۹۸ء) میں مولانا محمد منظور نعمانی کی ایک تقرير شائع ہوئی ہے۔ بارہ صفحات کی یہ تحریر خاص اسی موضوع پر ہے۔ اسمیں مولانا موصوف فرماتے ہیں: ’’قرآن وحدیث کی روشنی میں یقین ہے کہ آج ہم مسلمانوں پر جو مصیبتیں جہاں بھی آ رہی ہیں اور جو مظالم ہورہے ہیں وہ سب ہماری بد اعمالیوں اور نافرمانیوں کے نتائج ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے:۔ ’’وما ظلمنا هم ولكن كانوا انفسهم يظلمون ‘‘ ایک حدیث قدسی کے الفاظ ہیں: انما هي اعمال احصيها لكم۔ بدقسمتی سے اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ جن مشکلات میں مسلمان مبتلا ہیں ان سے نجات پانے کے لیے ان کے ناخداشناس اور دین سے بے بہرہ قائد ورہنما ان قوموں کے طور طریقوں سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ایمان سے محروم ہیں۔ قرآن سے ہدایت اور داخلی مسئلہ قرآن وحدیث میں نہایت واضح طور پر یہ بات بتائی گئی ہے کہ مسلمانوں پر جب بھی کوئی مصیبت آئے گی تو ان کی اپنی داخلی کمزوریوں کی بنا پر آئے گی۔ باہر کی کوئی طاقت انھیں کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں علماء اسلام نے یہ کیا کہ جب بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئی تو انھوں نے خود مسلمانوں کو یہ نصیحت کی کہ تم اپنی اندرونی خرابیوں کی اصلاح کرو، کیوں کہ اپنی اندرونی خرابیوں کی اصلاح کر کے ہم تم بیرونی خطرات سے بچ سکتے ہو۔
