قیامت کا الارم
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
گے کہ حق، علمی ترقی کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔ پھر خدا کی توفیق سے ایک شخص اٹھے گا جو خود سائنسی دلائل کے ذریعے اس دجالی فتنے کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ دجالی دلائل کو زیادہ برتر دلائل کے ساتھ بے بنیاد ثابت کر دے گا۔ یہ واقعہ، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، تاریخ بشری کا پہلا واقعہ ہوگا۔ وہ دعوتِ حق کی عظیم ترین مثال کے ہم معنی ہوگا۔ اسی لیے اُس کی بابت صحیح مسلم میں یہ الفاظ آئے ہیں: ھذا أعظم الناس شهادةً عند رب العالمين۔ یہ عظیم دعوتی واقعہ قیامت سے پہلے پیش آئے گا۔ دجالی فتنه اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنه نہیں، وه شیطانی فتنے ہی کا نقطۂ انتہا ہے۔ شیطان ہمیشہ سے یہ کرتا رہا ہے کہ وہ تزئین‘ کے ذریعے لوگوں کو سچائی کے راستے سے ہٹاتا ہے۔ شیطان کا یہ کام ہمیشہ سے جاری ہے۔ سائنسی دور میں یہ شیطانی تزئین ، علمی تزئین کے روپ میں ظاہر ہوگی۔ اسی لیے اس کو دجالیت کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، شیطان کا کام تزئین (الحجر : 39) کرنا ہے۔ تزئین کے لیے ہمیشہ اُس کے موافق سامان درکار ہوتا ہے۔ پچھلے زمانوں میں یہ موافق سامان زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں یہ موافق سامان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، علمی اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ دجال دراصل وہ شیطان اکبر ہے جو جدید ذرائع سے، زیادہ پُر زور انداز میں باطل کی تزئین کرے گا۔ پھر امت محمدی کا ایک شخص اٹھے گا جو خدا کی خصوصی مدد سے نظریاتی سطح پر اس کی دجالیت کا خاتمہ کر دے گا۔ دجالیت کیا ہے دجالیت کوئی ایسی برائی نہیں، جو آخری زمانے میں اچانک ظاہر ہو جائے۔ دجالیت دراصل شیطانی اغوا ہی کا زیادہ بڑا درجہ ہے۔ اغوا اور دجل دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے قریب المعنی الفاظ ہیں۔ اغوا عام قسم کی دجالی ہے، اور دجالیت زیادہ بڑے قسم کا اغوا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی تخلیق کے ابتدائی زمانے ہی میں شیطان نے یہ چیلنج دیا تھا کہ : لأزينن لهم في الأرض، ولأغوينهم أجمعين (الحجر : 39) یعنی میں ضرور اُن کے لیے زمین میں تزئین کروں گا، اور ضرور اُن سب کو بھٹکاؤں گا۔ قرآن کے دوسرے مقام پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader