دجّال اکبر کا فتنہ
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
دجّال کا حجّیج بنے گا اور اُس کا خاتمہ کرے گا (ان يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم، وإن يخرج ولست فيكم فامرئ حجيج نفسه، صحیح مسلم، کتاب الفتن) یہ واقعہ تاریخ کا عظیم ترین واقعہ ہوگا۔ چناں چہ صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين ( کتاب الفتن) یعنی یہ خدا کے نزدیک سب سے بڑی گواہی ہوگی۔ دجّال کے لفظی معنیٰ بہت دھوکا دینے والا ہے۔ دجّال اپنا یہ کام تلوار کے ذریعے نہیں کرے گا۔ دھوکا دینا، دلیل کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ تلوار کے ذریعے۔ چنانچہ دجّال علم اور دلائل کے زور پر لوگوں کو بہکائے گا۔ وہ لوگوں کو ذہنی گمراہی میں مبتلا کرے گا۔ دجّال کے مقابلے میں جو شخص اس کی کاٹ کے لیے اُٹھے گا، اُس کے لیے صحیح مسلم میں ’حجيج‘ کا لفظ آیا ہے۔ لسان العرب میں ’حجيج‘ کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے : مُحاجّہ ومغالبہ یا اظهار الحجة عليه ((2/228 یعنی دلائل کے ذریعے غالب آنے والا : One who can overcome in the argument. حدیث میں آتا ہے کہ دجّال کی پیشانی پر ک، ف، ر (کفر) لکھا ہوا ہوگا (صحیح مسلم، کتاب الفتن) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دجّال جس دور میں پیدا ہوگا، وہ خدا سے کفر (انکار) کا دور ہوگا، یعنی الحاد کا دور۔ پچھلی تاریخ کا فتنہ خدا کا انکار نہیں تھا، بلکہ خدا کو مان کر اُس کا شریک بنانا تھا۔ اُس زمانے میں خدا کا وجود ایک اصولِ موضوعہ (axiom) کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہ مسلّمہ ٹوٹ گیا۔ آج الحاد کا زمانہ ہے، یعنی انکارِ خدا کا زمانہ۔ قدیم زمانے میں داعی کو یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ موجودہ زمانے میں داعی کو خدا کے وجود کو ثابت کرنا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دجّال کے فتنے سے لڑنا کہا گیا ہے۔ خدا کے وجود کو علمی طور پر ثابت کرنا، یہی دجّال کو قتل کرنا ہے۔ حدیث میں جس چیز کو "عظیم ترین شہادت" کہا گیا ہے، اُس سے مراد غالباً یہی ہے۔ حدیثوں کے مطالعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دجّال یا دجّالیت در اصل سائنسی دور کا فتنہ ہے۔ سائنسی دور میں پہلی بار یہ ہوگا کہ کچھ لوگ دلائل کے نام پر حق کا ابطال کریں گے۔ وہ یہ تاثر دیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader