Urdu book · قیامت کا الارم

انٹرٹین منٹ کلچر

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

ظہورِ دجال کا زمانہ دجال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ ان روایتوں میں دجال کی انوکھی صفات بتائی گئی ہیں۔ لوگ ان صفات کو لفظی معنی (literal sense) میں لے لیتے ہیں۔ اس لیے ابھی تک وہ دجال کی آمد کے منتظر ہیں، حالاں کہ اس معاملے میں اب انتظار کا وقت نہیں، بلکہ دجال کے مقابلے میں اپنا کردار ادا کرنے کا وقت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روایتوں میں دجال کی جو صفات بتائی گئی ہیں، وہ سب تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طویل روایت میں دجال کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: ینادی بصوت لہ یسمع بہ ما بین الخافقین: إلی أولیائی، إلی أولیائی، إلی أحبائی، إلی أحبائی (کنز العمال، کتاب القيامة، باب الدجال) یعنی دجال اپنی ایک ایسی آواز سے پکارے گا جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے درمیان سنائی دے گی۔ دجال کہے گا—اے میرے ساتھیو، میری طرف آؤ، اے میرے ساتھیو، میری طرف آؤ۔ اے میرے دوستو، میری طرف آؤ۔ اے میرے دوستو، میری طرف آؤ۔ یہ بلاشبہ تمثیل کی زبان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود دجال کی فطری آواز اتنی زیادہ بلند ہوگی کہ وہ براہِ راست طور پر پوری دنیا میں سنائی دے۔ یہ دراصل ایک پیشین گوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دجال کا ظہور بعید خبر رسانی (telecommunication) کے زمانے میں ہوگا۔ وہ اگر چہ عام انسانوں کی مانند ہوگا، لیکن مشینی مواصلات کے ذریعے اس کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اپنی آواز کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچا سکے۔ روایت کے مذکورہ الفاظ دراصل، دجال کے زمانی مواقع کو بتا رہے ہیں، نہ کہ مادی معنوں میں خود دجال کی اپنی شخصیت کو۔ دجال کا اصل کام یہی ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے مواقع (opportunities) کا منفی استعمال کرکے لوگوں کو مغالطے میں ڈالے اور اس طرح لوگوں کی سوچ کو خدا کی طرف سے ہٹا کر غیر خدا کی طرف پھیر دے۔ دجالی کا یہ کام سیکولر میدان میں بھی ہوگا اور مذہبی میدان میں بھی۔ یہاں چند مثالوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page