قیامت کا الارم
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
وسوسے کے نتیجے میں مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد میں مبتلا ہوگئے ۔ وہ جدید مواقع کا مثبت استعمال نہ کرسکے، نہ دعوت کے اعتبار سے اور نہ معرفت کے اعتبار سے۔ نفرت اور شکایت کا یہ ذہن بلاشبہ دجالیت کے ذریعے پیدا ہوا۔ کیوں کہ یہ قومیں ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں، اور مدعو سے نفرت کرنا اسلام میں حرام ہے۔ دجال نے اس فعلِ حرام کو مزین کرکے اُس کو مسلمانوں کے لیے بظاہر عین اسلام بنادیا۔ انٹرٹین منٹ کلچر دجّال نے یہی کام ایک اور پہلو سے عام انسانوں کے ساتھ بھی کیا۔ سائنس نے جو نئی دنیا دریافت کی تھی، اُس میں عام انسانوں کے لیے ہدایت کا عظیم امکان موجود تھا۔ اس کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا تھا کہ آدمی خالص علمِ انسانی کی سطح پر خدائی سچائی کو دریافت کرے ۔ وہ اُس سے خدا کی معرفت کا اعلیٰ رزق لے سکے۔ وہ یہ سمجھے کہ اس دنیا میں وہ جن انعامات سے فائدہ اٹھا رہا ہے، اُن کا ایک دینے والا ہے، اور پھر اُن انعامات کا اعتراف کرکے وہ مزید انعامات کا مستحق بنے۔ مگر عین اُسی وقت دجّال متحرک ہوا، اور اٌس نے انسان کو نئے نئے فلسفوں میں الجھا کر انٹرٹین منٹ (entertainment) کے شیطانی کلچر میں مبتلا کر دیا۔ تمام انسان خواہشات کی فوری تکمیل کے فتنے میں مبتلا ہوگئے ۔ وہ بھول گئے کہ ہر انعام اپنے ساتھ لازمی ذمے داریاں لاتا ہے۔ ان ذمے داریوں کی ادائیگی کے بغیر انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ ان انعامات سے فائدہ اٹھا سکے۔ یہی وہ عظیم گمراہی ہے جس کو حدیث میں دجّال یا دجالیت کہا گیا ہے۔ جدید سائنس کے ذریعے خدا نے مسلمانوں کے لیے، اور عام انسانوں کے لیے ہدایت اور معرفت کا عظیم دروازہ کھولا تھا، لیکن عین اُسی موقع پر دجّال نے عظیم اغوا کا عمل کیا اور اٌس نے مسلمانوں اور عام انسانوں، دونوں کو خدا کی ہدایت سے دور کر دیا، اس طرح کہ اُس نے مسلمانوں کو منفی احساس میں مبتلا کر دیا، اور عام انسانوں کو تفریح کے راستے پر ڈال دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader