قیامت کا الارم
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس دانوں نے فطرت کے جو حقائق دریافت کیے، وہ اصلًا آفاق اور انفس میں خدائی نشانیوں (divine signs) کے ظہور کے ہم معنی تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ جدید الہیات (modern theology) کے لیے معلوماتی مواد (data) کی حیثیت رکھتے تھے۔ عین اُسی زمانے میں سیکولر فلاسفہ اور مفکرین کا ظہور ہوا۔ انھوں نے سائنس کے معلوماتی مواد کا استعمال منفی انداز میں کیا۔ انھوں نے انسانی تاریخ کی مادی تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اسی فکر کی نمائندگی جولین ہکسلے (وفات: 1975) کی کتاب میں کی گئی ہے، جس کا نام بامعنی طور پر یہ ہے— مذہب بغیر الہام: Religion Without Revelation. (1927) موجودہ زمانے میں جس طرح طبیعی علوم (physics) میں اہل مغرب نے دنیا کی قیادت کی، اسی طرح زندگی کی نظریاتی تشریح کے معاملے میں بھی اہل مغرب دنیا کے قائد بن گئے۔ گویا کہ زندگی اور کائنات دونوں کی تشریح کا کام اہل مغرب نے انجام دیا۔ اہل مشرق کے لیے اس معاملے میں اس سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اہل مغرب کے مقلد بن جائیں۔ اس معاملے میں اہل مغرب نے جو فکری کام انجام دیا، اُس کو ایک لفظ میں تاریخ کی مادی تعبیر (material interpretation of history) کہا جا سکتا ہے۔ اس دور میں مغربی دنیا میں کثرت سے فلاسفہ اور مفکرین پیدا ہوئے۔ یہاں ہم مثال کے طور پر صرف دو مغربی مفکرین کا ذکر کریں گے۔ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے ذہن کو متاثر کرنے کا کام کیا۔ یہ واقعہ غلط تعبیر (misinterpretation) کے نتیجے میں پیش آیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ علمائے مذہب اس سلسلے میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے میں ناکام رہے۔ تفریحی کلچر موجودہ زمانے میں ہر طرف تفریحی کلچر (entertainement culture) کا رواج ہے۔ ہر عورت اور مرد صرف ایک بات کو جانتے ہیں، اور وہ ہے زندگی کو بھرپور انجوائے (enjoy) کرنا۔ آج کل لوگوں کا سب سے زیادہ مقبول فارمولا یہ ہے کہ— ابھی اور اسی وقت (right here, right

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader