Urdu book · قیامت کا الارم

تفریحی کلچر

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

(now میں جیو۔ یہ اُس قدیم فارمولے کا احیا ہے، جس کو بابر (وفات: 1530ء) نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: بابر بعیش کوش که عالم دوباره نیست موجودہ زمانے میں اِس نظریے پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک علامتی نام سگمٹڈ فرائڈ (وفات: 1939) کا ہے۔ اِس نے اِس نظریے کی زبردست وکالت کی۔ اُس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انسان کے اندر جو خواہشات (desires) ہیں، اُنھیں پر انسانی شخصیت کے بننے یا نہ بننے کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی خواہشات کو دبائیں، تو آپ کی شخصیت گھٹی ہوئی خواہشات (repressed desires) کا کیس بن جائے گی۔ آپ کی شخصیت میں ارتقاء (growth) کا عمل رک جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ہر خواہش کو آزادانہ طور پر پورا کریں۔ اِسی گم راہ گُن نظریہ کے رواج کا نتیجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں اباحیت (permissiveness) کا طریقہ رائج ہو گیا ہے، اور انسانی سماج خوش پوش حیوانوں کا ایک جنگل بن کر رہ گیا ہے۔ سگمٹڈ فرائڈ اور اِس قسم کے دوسرے مغربی مفکرین کے اِس نظریے میں ایک بہت بڑا مغالطہ چھپا ہوا تھا۔ وہ یہ کہ انھوں نے انسانی شخصیت کے ارتقاء (personality development) کو خواہشات کی تکمیل سے جوڑ دیا، حالاں کہ اس کا تعلق انسان کے مائنڈ سے تھا۔ یہ دراصل انسان کا مائنڈ ہے جو شخصیت کے ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے اس معاملے میں خواہشات کی پیروی، ایک ڈسٹریکشن (distraction) کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ذہنی ارتقاء کے عمل کو روکنے کا سبب بن جاتی ہے۔ دجالی فتنہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں۔ وہ شیطانی فتنے کی صورت میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ البتہ بعد کے دور میں صرف یہ ہوگا کہ یہ فتنہ ایک باقاعدہ تہذیب کی صورت اختیار کرلے گا۔ وہ ایک خوش نما کلچر کی صورت اختیار کر کے لوگوں کے درمیان ایک پسندیدہ چیز کے طور پر رائج ہو جائے گا۔ یہ جدید دریافتوں کے غلط استعمال کی ایک ایسی صورت ہوگی جس کے بعد برائی کا کوئی اور درجہ نہیں۔ موجودہ زمانہ ایک پہلو سے اِسی دجالی کلچر کا زمانہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page