Urdu book · قیامت کا الارم

یاجوج اور ماجوج کے دودور

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

دوروں کا ذکر ہے، جو ایک کے بعد ایک پیش آئیں گے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی، وہ یاجوج اور ماجوج کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ دیوار اُن کی مفسدانہ کارروائی کے لیے ایک روک بن گئی۔ ایک عرصے تک یہ صورت حال قائم رہی۔ اس کے بعد یاجوج اور ماجوج کی ابتدائی سرکش نسل ختم ہو گئی اور بعد کی نسل پیدا ہوئی جو نسبتاً معتدل نسل کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس دوران ذوالقرنین کی بنائی ہوئی ابتدائی دیوار دھیرے دھیرے ٹوٹ پھوٹ گئی۔ اس کے بعد یاجوج اور ماجوج کی اگلی نسلوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ دیوار سے باہر آئیں، اور دیوار کے باہر کی دنیا میں پھیل جائیں۔ یہی دوسرا زمانہ ہے جب کہ اُن کے درمیان تہذیب کا دور شروع ہوا۔ یہ دور مختلف احوال کے درمیان بتدریج ترقی کی طرف بڑھتا رہا۔ یہ بعد کا دور دو زمانوں میں تقسیم ہے نشاتہ ثانیہ (Renaissance) سے قبل کا زمانہ، اور نشاتہ ثانیہ کے بعد کا زمانہ۔ اسی زمانے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، وہ واقعہ پیش آیا جس کو آپ نے یاجوج اور ماجوج کے بند میں شکاف (فتح اليوم من رَدْمِ يأجوج ومأجوج) سے تعبیر کیا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی، وہ ایک مادی دیوار تھی جو ایک عرصے کے بعد فطری طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ حدیث میں جس دیوار (رَدْم) میں شکاف ہونے کا ذکر ہے، وہ غالباً مادی دیوار نہیں ہے، بلکہ وہ اُس سے مختلف ہے۔ اِس سے مراد فکری دیوار (intellectual barrier) ہے۔ سابق ہجری دیوار کے ٹوٹنے سے یاجوج اور ماجوج کو اپنے قریبی علاقے میں پھیلنے کا موقع ملا تھا، لیکن دوسری ’’دیوار‘‘ کا ٹوٹنا زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اُس نے یاجوج اور ماجوج کی نسل کو یہ موقع دیا کہ وہ عالمی سطح پر پھیل جائیں اور حدیث کے الفاظ میں، یہ واقعہ ہو کہ : لا يأتون على شيئٍ إلا أكلوه، ولا يمرون على ماءٍ إلا شربوه (ابن ماجه، کتاب الفتن) یعنی وہ جس چیز تک پہنچیں گے، اس کو کھا جائیں گے، اور جس ذخیرۂ آب سے گزریں گے، اِس کو پی جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page