Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

علی صحیح البخاری، جلد 4، صفحہ (23)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یاجوج اور ماجوج سے مراد وہ مغربی قومیں (western nations) ہیں جو یورپ میں آباد ہوئیں ۔ یاجوج اور ماجوج کے بارے میں جو دستیاب معلومات (available data) ہیں، وہ سب سے زیادہ یورپی قوموں پر صادق آتی ہیں۔ یہ معلومات زیادہ تمثیل کی زبان میں ہیں، اِس لیے لوگوں کو اُن کا مفہوم سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ اگر اِس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے تو تقریباً بلا اشتباہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج سے مراد وہی قومیں ہیں جن کو یورپی قومیں کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ حضرت نوح کے بیٹے یافت (Japheth) کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ غالباً پہلے مغربی یورپ میں آباد ہوئے، پھر اُنھیں کی نسلیں امریکا اور آسٹریلیا میں پھیل گئیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر جا کر ٹھہری تھی (ھود: 44)۔ جودی پہاڑ قدیم ترکی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔ ترکی، یورپ کا ایک حصہ مانا جاتا ہے۔ حضرت نوح کی کشتی جب یہاں ٹھہری، تو اُس وقت یہاں آپ کی اولاد میں سے تین افراد تھے حام، سام اور یافت۔ پہلے دونوں افراد، ایشیا اور افریقہ کے علاقے میں آباد ہوئے۔ اور یافت کی اولاد ابتداءً روس کے علاقے میں آباد ہوئی اور پھر بعد کو وہ یورپ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئی۔ غالباً مغربی ملکوں میں آباد ہونے والے یہی وہ لوگ ہیں جن کو قدیم کتابوں میں یاجوج اور ماجوج کہا گیا ہے۔ یاجوج اور ماجوج کوئی پُراسرار لوگ نہ تھے، اور نہ وہ ایسے لوگ تھے جن کے لیے خدا نے ابدی طور پر گم راہی مقدر کر دی ہو۔ وہ دوسرے انسانوں کی مانند انسان تھے۔ اُن کے ساتھ جو واقعات پیش آئے، وہ سب عام فطری قانون کے تحت تھے۔ یاجوج اور ماجوج کے دودور قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک جگہ ذوالقرنین کے حوالے سے (الكهف: 94)، اور دوسری جگہ ذوالقرنین کے حوالے کے بغیر (الأنبياء: 96)۔ ان دونوں آیتوں کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں آیتوں میں یاجوج اور ماجوج کے دو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page