Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

ذاتی انٹرسٹ کے لئے کام کئے جاتے ہیں اور ان پر دین کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ لوگ شاندار باتیں کریں گے اور لوگ ان کی باتوں سے متاثر ہو کر انھیں بڑے بڑے القاب دیں گے حالاں کہ حدیث کے الفاظ میں ، ان کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود نہ ہوگا۔ اسلام کے بھیس میں منافقت کا یہ دور آج امت کے اندر پوری طرح آچکا ہے۔ آج مسیحی رول یہی ہے کہ اس منافقت کو ایکسپوز کر کے اصلی اسلام کو لوگوں کے سامنے مہر بن حالت میں پیش کر دیا جائے۔ حضرت مسیح کا رول حضرت مسیح، بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر کے طور پر آئے۔ اُس وقت بنی اسرائیل کے درمیان خدا کا دین موجود تھا، لیکن وہ دین منزّل نہ تھا، بلکہ عملاً اس کی حیثیت دینِ محرّف کی بن چکی تھی۔ حضرت مسیح نے امتِ یہود کو دوبارہ دینِ منزّل کا پیغام دیا۔ یہی کام امتِ محمدی کی نسبت سے بھی مطلوب ہے۔ حدیث کے مطابق ، امتِ محمدی کے دورِ آخر میں، امت کے درمیان تقریباً وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی، جو حضرت مسیح کے زمانے میں امتِ یہود کی تھی۔ اس لیے ضرورت ہوگی کہ امت محمدی کے آخری دور میں دوبارہ مسیحی کردار کو دہرایا جائے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تجدیدِ دین کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ کسی پر اسرار فضیلت کا معاملہ۔ حدیث کے الفاظ میں، آج اسلام ایک غریب دین (اجنبی دین) بن چکا ہے۔ بعد کو پیدا ہونے والے تصورات نے اصل دین کے اوپر پردہ ڈال دیا ہے۔ آج کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ دین کو بعد کی ملاوٹوں سے پاک کر کے اس کو اس کی اصل صورت میں پیش کیا جائے، دینِ اجنبی کو دینِ معروف بنایا جائے۔ یہ کام مسلمانوں کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور غیر مسلموں کی نسبت سے بھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امتِ محمدی کے آخری دور میں مسیحی رول کا اعادہ اُس وقت ہوگا، جب کہ قیامت بالکل قریب آ چکی ہوگی۔ حالات بتاتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں قرب قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں۔ دینی اعتبار سے اس کی نشانی یہ ہے کہ انسانوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page