مسیحی رول کی آمد
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
نازل ہوں گے۔ اور جب مسیح آسمان سے اترنے والی کوئی شخصیت نہ ہوں، تو ہمارے لیے صرف یہ اختیار (option) باقی رہتا ہے کہ مسیح کو سادہ طور پر رول (role) کے معنی میں لیں، یعنی آخری زمانے میں امت محمدی سے کوئی ایک فرد اٹھے گا جو زمانی حالات کے اعتبار سے مسیح کا رول ادا کرے گا۔ مسیحی رول کوئی فضیلت کی بات نہیں اور نہ وہ کوئی پراسرار چیز ہے۔ مسیحی رول دراصل ایک تاریخی رول ہے جو کسی امت کے دور آخر میں مطلوب ہوتا ہے۔ امت موسیٰ کے دور آخر میں یہ رول مسیح ابن مریم نے انجام دیا تھا۔ امت محمد کے دور آخر میں یہ رول خود امت کا کوئی مجدد انجام دے گا۔ امت محمد کے دور آخر کا رول آسمان سے اترنے والی کسی شخصیت کے ذریعہ انجام نہیں پائے گا۔ وہ خود امت کے اندر پیدا ہونے والے ایک شخص کے ذریعہ فطری طور پر انجام پائے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر امت اپنے ابتدائی دور میں اخلاص پر قائم ہوتی ہے۔ مگر بعد کے دور میں امت کے افراد کے اندر زوال آجاتا ہے۔ اب امت کے افراد میں منافقت عام ہو جاتی ہے۔ مسیحی رول حقیقت میں یہی ہے کہ دور زوال میں منافقت کو ایکسپوز کیا جائے اور اخلاص والے دین سے دوبارہ لوگوں کو متعارف کیا جائے۔ منافقت کیا ہے۔ منافقت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دین کی حقیقی روح باقی نہ رہے۔ کچھ ظاہری چیزوں کو دین داری کا معیار سمجھ لیا جائے۔ اسی کو حضرت مسیح نے تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا تھا کہ لوگ اندر سے بھیڑیا ہوں اور انھوں نے اوپر سے بھیڑ کی کھال پہن لی ہو۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، امت محمدی میں منافقت کا یہ دور پوری طرح آچکا ہے۔ اب عام طور پر یہ حال ہے کہ ظاہری وضع قطع کو دین داری سمجھ لیا گیا ہے۔ لوگوں کو قومی فخر کی غذا دینا عین اسلامی کام سمجھا جانے لگا ہے۔ لوگوں کی کنڈیشنگ کو توڑے بغیر ایمان اور اسلام کے شان دار مظاہرے کئے جا رہے ہیں اور ایسے لوگ مسلمانوں کے اندر قومی ہیرو بن گئے ہیں۔ کمیونٹی ورک کو دینی ورک کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ریا اور نمائش کے لئے کام کئے جاتے ہیں اور اُن کے اوپر لوگوں کو اخلاص کا ٹائٹل مل جاتا ہے۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کرنے والے لوگ مجاہدینِ اسلام کا درجہ پا رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader