Urdu book · قیامت کا الارم

قیامت کا الارم

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

ابدی حسرت اور محرومی کے سوا کچھ اور نہ آئے گا۔ مسیح، امتِ مسلمہ کے ایک فرد کے مصلحانہ رول کا نام ہے، نہ کہ آسمان سے نازل ہونے والی کسی پُر اسرار شخصیت کا نام۔ امتِ مسلمہ کے ایک فرد کا یہ رول عیسیٰ بن مریم کے رول کے مشابہ ہوگا۔ اس لیے اس کو امتِ مسلمہ کا مسیح کہا گیا ہے۔ اس شخص کا رول عیسیٰ بن مریم کے رول کی طرح دواہم پہلوؤں کا حامل ہوگا—غیر مسلموں کے لیے اسلام کو ان کی ڈسکوری (discovery) بنانا، اور مسلمانوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری (rediscovery) بنانا۔ دورِ آخر کا مجدد روایات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مہدی اور مسیح دونوں ایک ہی شخصیت کے نام ہیں (ولا المهدی إلا عیسیٰ بن مریم)۔ اس سے مراد دورِ آخر میں ظاہر ہونے والا ایک مجدّد ہے۔ دورِ آخر کے مجدد کا ذکر خصوصی انداز سے اس لیے کیا گیا کہ اس کا ظہور ایک ایسے زمانے میں ہوگا، جب کہ دنیا میں نئے مواقع پیدا ہو چکے ہوں گے۔ دجّال بھی ہر دور میں ہوئے ہیں، اور مجدد بھی ہر دور میں۔ فرق صرف یہ ہے کہ قدیم زمانے میں دجّال اور مجدد، دونوں کو صرف روایتی مواقع حاصل ہوتے تھے، جب کہ بعد کے زمانے میں دونوں ہی کو جدید سائنسی مواقع حاصل ہوں گے۔ اس اعتبار سے مجددِ کامل اور مجددِ غیر کامل کی تقسیم ایک غیر متعلق (irrelevant) تقسیم ہے۔ صحیح تقسیم کے مطابق، دورِ قدیم کے مجدد، روایتی دور کے مجدد تھے، اور بعد کے زمانے کا مجدد، سائنسی دور کا مجدد ہوگا۔ اسی اہمیت کی بنا پر بعد کے زمانے کے مجدد کے لیے نیا لقب مہدی یا مسیح استعمال کیا گیا۔ دورِ آخر کے مجدّد کی پہچان اب یہ سوال ہے کہ دورِ آخر کے مجدد کی پہچان کیا ہوگی۔ اُس کی پہچان بلاشبہ یہ نہیں ہوگی کہ وہ کچھ پر عجوبہ صفات کا مالک ہوگا۔ اس کی پہچان بنیادی طور پر دو ہوگی۔ اور یہ دونوں چیزیں واضح طور پر قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page