Urdu book · قیامت کا الارم

دورِ آخر کے مجدّد کی پہچان

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں دورِ آخر کے بارے میں ایک طویل روایت آئی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرۃ، وهى خراب من الهدى (رواه البيهقي في شعب الإيمان)۔ یعنی اُس وقت اسلام میں سے کچھ نہیں بچے گا، سوائے اس کے نام کے۔ اور قرآن آں میں سے کچھ نہیں بچے گا، سوائے اس کے نشان کے۔ اُس وقت ان کی مسجدیں خوب آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے بالکل ویران ہوں گی۔ اس حدیث کا مطلب کیا ہے، وہ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دوسری روایت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانے کے بارے میں فرمایا: بدأ الإسلام غريباً، وسيعود كما بدأ (صحیح مسلم، کتاب الإيمان) یعنی اسلام جب شروع ہوا، تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا۔ اس قسم کی روایتوں پر غور کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ آخر کے مجدد کی سب سے پہلی علامت یہ ہوگی کہ وہ خدا کی خصوصی توفیق سے، دینِ حق کو دوبارہ اس کی حقیقی صورت میں دریافت کرے گا۔ وہ ظاہری فارم سے گزر کر، اسلام کی اصل اسپرٹ کا فہم حاصل کرے گا۔ وہ قرآن کی مغالطہ آمیز تشریحوں سے گزر کر قرآن کے اصل پیغام کو سمجھے گا۔ وہ دینِ اجنبی کو دوبارہ اپنے لیے دینِ معروف بنائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ خدا کے دین کو دوبارہ اُس طرح دریافت کرے گا، جس طرح اصحابِ رسول نے اس کو دریافت کیا تھا۔ زمانے کے اعتبار سے، وہ بعد کا انسان ہوگا، لیکن معرفت کے اعتبار سے وہ اصحابِ رسول جیسی معرفت کا حامل ہوگا۔ اُس کی دوسری علامت وہ ہوگی جو قرآن میں پیغمبروں کی نسبت سے ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه (ابراهيم: 4) یعنی خدا نے جو رسول بھیجے، وہ ان کی اپنی قوم کی زبان میں بھیجے ۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، بلکہ وہ ایک نہایت اہم بات ہے جو رسول کو پہچاننے کے معاملے میں ایک یقینی معیار کو بتاتی ہے۔ اس آیت میں ’’لسان‘‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، اس میں وہ تمام پہلو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page