یاجوج اور ماجوج کی دیوار
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
سوکر اٹھے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا۔ اُس وقت آپ نے فرمایا: لا الہ الا اللہ، ویل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج (صحيح البخاری، کتاب الفتن، صحیح مسلم، کتاب الفتن) ۔ لا الہ الا اللہ، خرابی ہے عرب کی، اُس شر سے جو قریب آ چکا۔ آج یاجوج اور ماجوج کے بند میں شگاف پڑ گیا: Woe to the Arabs from the evil that has approached them. Today a hole has been opened in the barrier of Yajuj and Majuj. فکری دیوار اس حدیث رسول پر اور اس کے بعد بننے والی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بند (رَدْم) سے مراد کوئی مادی دیوار (physical barrier) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ایک فکری دیوار (intellectual barrier) ہے۔ یہ فکری دیوار وہی ہے جس کو فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ اس عقیدے کا ٹوٹنا ہی بند کا ٹوٹنا تھا، جس کے بعد مغربی قوموں کی تمام ترقیوں کا دروازہ کھلا۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہو گئے کہ اپنے علاقے کے باہر کی دنیا میں داخل ہو کر اس میں غلبہ حاصل کر سکیں۔ اصل یہ ہے کہ فطرت (nature) کے اندر وہ تمام ترقیوں کے اسباب چھپے ہوئے تھے، جن کی دریافت کے بعد جدید مغربی تہذیب ظہور میں آئی۔ یہ اسباب ہمیشہ سے فطرت کے اندر موجود تھے، لیکن فطرت کو معبود کا درجہ دے دیا گیا۔ اسی سے فطرت پرستی کا مذہب پیدا ہوا۔ اُس وقت انسان، فطرت کو معبود کی نظر سے دیکھتا تھا، اس لیے وہ اس کی تحقیق اور تفتیش کی جرأت نہ کر سکا۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں جب اسلام کے ذریعے توحید پر مبنی انقلاب واقع ہوا، اور فطرت پرستی کی جگہ خدا پرستی کا رواج دنیا میں قائم ہوا، اس کے بعد فطرت کا تقدس (holiness) ٹوٹ گیا۔ اب فطرت (nature) عبادت کے بجائے تسخیر کا موضوع بن گئی۔ یہی جدید مادی تہذیب کا نقطہ آغاز تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تاریخ توحید میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ توحید کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader