یاجوج اور ماجوج کی دیوار
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
عقیدہ فکری مرحلے سے گزر کر انقلاب کے مرحلے میں پہنچ گیا۔ ہجرت نبوی کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوا، اور کعبہ کو بتوں سے پاک کر دیا گیا۔ اس کے جلد ہی بعد پورے عرب میں توحید کا دبدبہ قائم ہو گیا، اور پھر بہت کم مدت میں تقریباًپوری دنیا میں یہ واقعہ پیش آیا کہ فطرت پرستی یا تو ختم ہوگئی، یا وہ غیر مؤثر ہو کر گوشہ گیر ہونے پر مجبور ہوگئی۔ اس انقلاب کا اصل پہلو اس کا مذہبی پہلو تھا۔ وہ اہل اسلام کے ذریعے دنیا میں قائم ہوا۔ اس کا دوسرا پہلو وہ تھا جس کو اُس کا سیکولر پہلو کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کی اشاعت زیادہ تر یورپ میں ہوئی۔ اہل یورپ نے اس کو اپنی خصوصی تحقیق کا موضوع بنایا، اور پھر اس کو ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچا دیا۔ مغربی قوموں کے درمیان اس دوسرے پہلو کا فروغ زیادہ واضح طور پر صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد چودھویں صدی عیسوی سے شروع ہوا، اور بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک وہ ایک مکمل تہذیب کے مرحلے تک پہنچ گیا۔ وہ چیز جس کو مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے مبنی بر توحید انقلاب کا ایک سیکولر ایڈیشن ہے۔ فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹانے کا جو کام اسلام نے انجام دیا، اُس کا یہ براہِ راست نتیجہ تھا کہ فطرت کی تحقیق اور تفتیش کا عمل شروع ہو گیا۔ یہ عمل ابتدائی طور پر قدیم بغداد اور قدیم قرطبہ، وغیرہ میں مسلمانوں کے درمیان شروع ہو چکا تھا، لیکن صلیبی جنگوں کے بعد یہ کام تمام تر اہل یورپ نے انجام دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید مادی تہذیب کو مؤرخین عام طور پر اہل مغرب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ تاریخ میں کوئی حقیقی انقلاب اچانک نہیں آتا۔ ایسا انقلاب ہمیشہ لمبی منصوبہ بندی اور تدریجی عمل کے ذریعے وجود میں آتا ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ میں اس کی دو نمایاں مثالیں موجود ہیں۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسایا تھا۔ یہ ایک نئی نسل بنانے کے لیے لمبی منصوبہ بندی کا ایک معاملہ تھا۔ اس لمبی منصوبہ بندی کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ تھا جو ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ظاہر ہوا، یعنی رسول اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader