Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

اسلام ایک عظیم جدوجہد

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے کہا گیا ہے کہ دنیا کے اندر مومن کی صرف ذمہ داریاں ہیں۔ یہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے اس کا جو کچھ حق ہے وہ خدا کے یہاں ہے اور وہیں وہ اسے پائے گا۔ اسلام کو قبول کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اس کو اختیار کر لے۔ بلکہ عین اسی کے ساتھ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو اس کی طرف بلائے اور پورے معاشرہ میں اس کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ دین کا یہ دوسرا تقاضا ہماری ذمہ داری کو صرف دگنا نہیں کرتا بلکہ اس کو انتہائی حد تک دشوار بنا دیتا ہے۔ اگر چہ انفرادی زندگی میں ممکن حد تک دین کو اختیار کرنا بھی کچھ آسان کام نہیں ہے۔ یہ نعمتوں سے بھری ہوئی دنیا میں اپنے اختیار اور اپنے ارادہ کو صرف صحیح سمت میں استعمال کرنا ہے۔ یہ خود مختار ہو کر اپنی مرضی سے اپنے آپ کو پابند بنا لینا ہے اور موت کی آخری گھڑی تک پابند بنائے رکھنا ہے۔ مگر دین کا دوسرا تقاضا۔ یعنی دوسرے بندگان خدا تک خدا کے پیغام کو پہنچانا اور اس کے دین کو عملاً زمین کے اوپر رائج کرنے کی جدوجہد کرنا۔ یہ اتنا گراں بار تقاضا ہے کہ اس کا تصور بھی آدمی کو لرزادینے کے لیے کافی ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم اور جاں گسل کام ہے جو اس کی ساری قوت اور اس کا سب کچھ مانگتا ہے۔ دعوت حق اور اشاعت دین کے علاوہ کسی کام میں وہ جتنا وقت اور قوت بھی صرف کرے گا اس کے معنی یہ ہیں کہ اسی کے بقدر وہ اصل فرضیہ کی ادائیگی میں کمی کر رہا ہے۔ آدمی جب اس حیثیت سے دین کو قبول کرتا ہے تو وہ فوراً محسوس کرتا ہے کہ اس کام میں اپنا حصہ ادا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ میں اور کچھ نہ کروں۔ وہ اپنے لیے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں پاتا کہ اپنی ضرورتوں کو انتہائی حد تک مختصر کر دے۔ دنیا کے اندر اپنی تمناؤں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے اور اپنی ذات کے لیے کم سے مصروف رہ کر حق کی زیادہ سے زیادہ خدمت انجام دے۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ بالکل ناگزیر ضروریات کی فراہمی کے بعد جو وقت بھی ملے اس کو شہادت دین کی راہ میں لگا دے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کو اپنی انفرادی زندگی میں اختیار کرنا ہو تو صرف حرام چیزوں کو چھوڑ کر بھی کوئی شخص دیندار بن سکتا ہے مگر اسلام کو اجتماعی زندگی میں اختیار کرنے کی مہم شروع کیجیے تو آپ کو بہت سی حلال چیزوں سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ اس کے بغیر صحیح طور پر اس کام کی ابتدا بھی نہیں کی جاسکتی۔ اس کو انجام تک پہنچانا تو بہت دور کی بات ہے۔ پہلی صورت میں آدمی کے اوپر صرف اس کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے اور دوسری صورت میں وہ ساری خلق تک پیغام حق پہنچانے کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔ یہ چیز آپ کی مصروفیتوں اور دقتوں میں بے پناہ اضافہ کردیتی ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپ اسلام کے برحق ہونے اور اس کے سوا دوسرے تمام افکار و نظریات کے ناحق ہونے کا بے پناہ یقین پیدا کریں تاکہ آپ اس کے پرجوش مبلغ بن سکیں ۔ آپ کو اسلام کا تفصیلی علم حاصل کرنا ہے تاکہ دوسروں کے سامنے اس کو واضح انداز میں پیش کر سکیں، آپ کو ان غلط افکار و نظریات کے خلاف دلائل فراہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page