اسلام ایک عظیم جدوجہد
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے ہیں جنہوں نے انسانی ذہنوں کو متاثر کر رکھا ہے تاکہ باطل کو چھوڑ کر لوگوں کو حق کی طرف آنے پر آماده کیا جاسکے۔ آپ کو ایک ایک شخص تک پہنچنا ہے اور اس کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی قوتِ فہم کے مطابق اسے بات سمجھانی ہے۔ آپ کو اسلامی اخلاق کا نہایت اعلیٰ نمونہ بننا ہے تاکہ آپ کی زندگی آپ کے دعوے کی تردید کرنے والی نہ ہو بلکہ اس کی صداقت پر گواہ ہو۔ بغرض فرائض کی ایک عظیم فہرست ہے جو آپ سے آپ کی پوری عمر اور آپ کا پورا اثاثہ مانگتی ہے۔ پھر ایسے فرض کو ادا کرنے کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد کسی دوسری چیز میں دلچسپی لینے کا موقع کہاں باقی رہتا ہے۔ یہ ہجرت کی دوسری قسم ہے یعنی دین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنی ذات کے تقاضوں کو چھوڑ دینا جب دین کی ضروریات اور اپنی ضروریات میں ٹکراؤ پیدا ہو، جب دین کا کام آپ سے آپ کا پورا وقت اور آپ کی ساری صلاحیتیں مانگتا ہو۔ جب دین کا تقاضا یہ ہو کہ آپ اپنی خوشی، اپنا آرام اور اپنے عزیز و اقارب تک کو چھوڑ کر اس کی طرف بڑھیں تو آپ اپنا سب کچھ اس کے لیے قربان کر دیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہ ہو جس کا تعلق آپ کو دین کی طرف جانے میں روک بن جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مندرجہ ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے۔ مومن، مہاجر اور مجاہد فی سبیل اللہ کے بلند درجات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ قُلْ اِنْ كَانَ اَبَاؤُكُمْ وَاَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ اے نبی کہہ دو! اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے وَأَرْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اَقْتَرَفْتُمُوهَا بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہاری برادری کے لوگ وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے ماند اَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِيْ پڑنے کا تمہیں ڈر لگتا ہے اور مکانات جو تم کو پسند ہیں سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ اگر یہ تم کو خدا اور رسول سے زیادہ محبوب ہیں اور خدا کی لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ . راہ میں جہاد کرنے کے مقابلے میں تم کو ان چیزوں سے زیادہ (توبہ - ۲۴) سینگی ہے تو انتظار کرو، یہاں تک کہ خدا کا فیصلہ آ جائے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس آیت میں جن چیزوں کا ذکر ہے وہ سب کی سب متنازع ہیں اور ان میں سے کوئی بھی فی نفسہ حرام نہیں ہے بلکہ مومنین سے کہا گیا ہے کہ ان سب کو چھوڑ کر خدا کی طرف بڑھیں اور جو لوگ ایسا کریں وہ فاسق یعنی ممتہکن قرار دیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ ہمارے پیشِ نظر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے کیا تھا جنہوں نے نئی آخرا المال کے ذریعہ اپنے قریب سے پرعد کیا تھا کہ وہ دین کو سر بلند کرنے کی کوش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader