Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

قرآن کا مطلوب انسان

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری چیز اقسام ہے رہبر۔ ۹ اقسام کے معنی ہیں بانٹنا، تقسیم کرنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خدائی تعلیمات کو پوری شکل میں قبول نہ کیا جائے بلکہ اپنی خواہش کے مطابق ٹکڑے کر کے اس کے بعض حصوں کو لیا جائے اور بعض کو چھوڑ دیا جائے۔ تیسری چیز وہ ہے جس کو قرآن میں مضاھاة کہا گیا ہے۔ ۳۰۔ مضاھاة کے معنی عربی زبان میں مشاكلة یعنی بالشی کے آتے ہیں انسان العرب یعنی کسی چیز کو دوسری چیز کے ہم شکل قرار دینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل باطل کے خیالات سے متاثر ہو کر یا دنیوی مصالح کی بنا پر ان کی بات کو اپنا لیا جائے اور اس کو اس طرح پیش کیا جائے گویا وہ خدائی تعلیم کے عین مطابق یا اس کے مشابہ ہے۔ جہاں تک پہلی صورت (تحریف) کا تعلق ہے اس کی بنیاد مکمل طور پر بدنیتی کے اوپر قائم ہے۔ اور ہم سب لوگ اس کی برائی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مگر دوسری اور تیسری صورت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ہفتہ کہی کبھی اچھے خاصے نیک نیت لوگوں میں بھی اس طرح چپکے سے داخل ہو جاتا ہے کہ انھیں خبر نہیں ہوتی اور وہ اپنا کام تمام کر کے بالآخر انھیں کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اکثر حالات میں متاثر ذہن کے ساتھ واقعات کا مطالعہ کرتا ہے۔ وقت کی سوسائٹی میں جن خیالات کی اہمیت تسلیم کی جا چکی ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر وہ ان کا اثر قبول کرتا ہے۔ اسی طرح حقیقی دنیا کی بہت سی مصلحتیں معصوم شکل میں اگر اس کے ذہن کی سطح سے بار بار ٹکراتی رہتی ہیں۔ یہ چیزیں مل کر کبھی شعوری اور زیادہ تر غیر شعوری طور پر اس کا ایک فکر بنادیتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان ہمیشہ چیزوں کو صرف اس حیثیت سے نہیں دیکھتا جیسی کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اکثر حالات میں وہ مجبور ہوتا ہے کہ چیزوں کو اس حیثیت سے دیکھے جیسا کہ اس کا ذہن انھیں دیکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح جب کوئی شخص ایک خاص ذہن لے کر قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ بلا ارادہ اقسام کی ایک صورت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ قرآن کی بعض ایسی باتوں کو تو لے لیتا ہے جو اس کے ذہن کے چوکٹے میں بیٹھ سکتی ہوں اور باقی تمام باتوں کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح وہ سارا قرآن پڑھ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے خدائی کتاب کو پالیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن سے بالکل بے خبر رہتا ہے۔ اس نے خدائی کتاب کے بڑے حصہ کو چھوڑ کر اس کے بعض اجزاء کو اپنے خود ساختہ مفہوم میں لے لیا ہے۔ اس نے جو چیز پائی ہے وہ وہی ہے جو اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھی اور جس کی تائید میں اتفاق سے قرآن کی بعض آیتیں بھی اسے ہاتھ آ گئیں۔ ایسے آدمی کی مثال اس تعلیم یافتہ نوجوان کی ہے جو اپنی بے کاری سے پریشان ہو اور صرف "ضرورت ملازمت" کے اشتہارات دیکھنے کے لیے اخبار کا مطالعہ کرتا ہو۔ یہ نوجوان اپنے اس مطالعہ سے ممکن ہے ملازمت کی درخواست بھیجنے کے لیے کچھ پتے حاصل کرلے مگر وہ دنیا کی سیاست سے بے خبر رہے گا اور اخبار بینی کے اصل مقصد کو حاصل نہ کر سکے گا۔ اسی طرح مضاھاة کی خرابی بھی آدمی کے اندر خاموشی کے ساتھ داخل ہو جاتی ہے۔ اس میں ماحول کے ذاتی تاثر کے علاوہ خاص طور پر تبلیغی ضروریات کا بھی کچھ دخل ہوتا ہے۔ یہ خیال کہ جو بات لوگوں سے کہی ہے وہ ایسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page