Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

قرآن کا مطلوب انسان

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

ہونی چاہیے جو لوگوں کے ذہن سے قریب تر ہو تاکہ وہ اس کو قبول کر سکیں ۔ نیز یہ کہ بات کو ایسے الفاظ اور اصطلاحات میں پیش کیا جائے کہ وقت کا معیار فکر اس کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو ، وقت کے علمی خیالات کے ساتھ وہ پہلو بہ پہلو ہجر لے سکے ۔ یہ اگر چہ بذاتِ خود غلط نہیں ہے مگر بعض مرتبہ وہ آدمی کے ذہن میں خدائی تعلیمات کی ایسی تصویر بناتا ہے جو اصل تعلیمات سے زیادہ وقت کے نظریات سے مطابقت رکھنے والا ہو ۔ خدائی تعلیمات سے جزوی مشابہت توضر ور اس میں موجود رہتی ہے ۔ مگر در حقیقت وہ اسلامی الفاظ اور اصطلاحات میں غیر اسلامی خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے ۔ اگر بے جا اجازت نہ ہو تو میں عرض کروں گا کہ تصوف جو ایک رائے کے مطابق یونانی لفظ تھیوسوفیا (Theosofia) کی تعریب ہے ، وہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے جو دوسری صدی ہجری کے نصف آخر میں محض خارجی اثرات کے تحت اسلام کے اندر داخل ہو گیا ۔ ہمارے قدیم بزرگ جب اسلام کا پیغام لے کر عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں گئے تو انھوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں کچھ مخصوص افکار و اشتعال لوگوں کے ذہنوں پر چھائے ہوئے تھے اور مذہب اور مذہبی زندگی کا تصور ان کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا یہی نہیں بلکہ ان انکار و اشتعال کی پشت پر ایک زبردست فلسفہ بھی موجود تھا۔ ان چیزوں نے کچھ دعوتی مصلحت اور کچھ انفعالی تصور کے تحت ہمارے بزرگوں کو آمادہ کیا کہ وہ اسلام کو اس رنگ میں پیش کریں جس سے لوگ پہلے سے مانوس ہیں۔ اس طرح نبوت کے تقریباً دو سو سال بعد اسلام کی متصوفانہ تعبیر ہماری تاریخ میں داخل ہوگئی ۔ اب قدیم روحانی انداز میں سوچنے کا زمانہ ختم ہو رہا ہے اور ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جب ہر طرف معاشی اور سیاسی تحریکوں کا زور ہے ۔ آج کا انسان عام طور پر اس انداز میں سوچتا ہے کہ موجودہ سماجی ڈھانچے کو بدل کر کسی اور بنیاد پر دنیا کا نظام چلایا جائے ۔ یہ اسی قسم کا ایک نیا فتنہ ہے جس سے ہمارے پیش روؤں کو سابقہ پیش آیا تھا ۔ وہ اگر تغیر روحانیت کا فتنہ تھا تو یہ تغیر ماریت کا فتنہ ہے۔ اب اگر ہم نے اس فتنے کو نہ پہچانا اور اس سے اپنے ذہن کو محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کی تو ہم بھی دین کی تعبیر میں اسی قسم کی غلطی کریں گے جو اس سے پہلے صوفیائے کرام سے ہو چکی ہے ۔ اور پھر قرآن کی ایک نئی تفسیر کر کے قدیم روحانی تصوف کی طرح اسلام کو ایک جدید سیاسی تصوف بنا کر رکھ دیں گے۔ اور اس کے بعد ان تمام نتائج سے دوچار ہوں گے جو سیاسی تحریکوں کے لیے مقدر ہیں۔ سے تصوف کی اصل کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ۔ دوسری زیادہ مقبول رائے یہ ہے کہ یہ لفظ صوف (ادن) سے بنا ہے ۔ ابتدائی زمانہ میں اس طبقہ کے لوگ اکثراون کا معمولی لباس پہنتے تھے اس لئے ایسے لوگوں کو صوفی اور ان کے طریقہ کو تصوف کہا جانے لگا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page