قرآن کا مطلوب انسان
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
تنہائی طور پر قریب ہے، کسی مخاطب کی موجودگی کے بغیر کامیاب ترین گفتگو میں مصروف ہے۔ ایک سب سے زیادہ پریت چیز کے لیے اپنے اندر سب سے زیادہ محبت کے جذبات پا رہا ہے۔ ایک چیز جس کو بظاہر کسی واسطہ کے ذریعہ محسوس نہیں کیا جا سکتا، کسی واسطہ کے بغیر وہ اس تک پہنچ گیا ہے : گویا سجدہ جو نماز کی انتہائی حالت ہے، وہ بیک وقت خدا سے قریب ہونے کی بھی انتہائی حالت ہے۔ نماز کی شکل میں اللہ تعالی نے ہمارے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ ہم دنیا میں رہتے ہوئے اس کی معیت اور قربت حاصل کرسکیں، نماز کے ذریعہ آدمی جب اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کرتا ہے تو وہ روحانی طور پر خدا سے جڑ جاتا ہے وہ یاد الہی کی ایسی حالت اپنے اوپر طاری کرتا ہے جب کہ وہ مکمل طور پر ایک حیاتی وجود بن جاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کو خدا کے اندر گم کر دیتا ہے۔ وحدت وجود کا تصور غالباً اپنی ابتدائی شکل میں محض اس کیفیت کو بتانے کے لیے تھا جو تصور الہی میں غرق ہونے کے وقت آدمی کے اوپر طاری ہوتی ہے۔ مگر بعد کو منطقی متین کی کوشش نے اس کو مبعد رست کے ناقابل فہم نقطے تک پہنچا دیا۔ اگر اس بدنام عقیدے کے متعلق میری تشریح کو صحیح مانا جائے اور اس کو محض میثاقی ارتباط کے مفہوم میں لیا جاسکے تو میں کہوں گا کہ سجدہ قربت کے وقت آدمی پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کے اظہار کے لیے شاید انسان زبان میں یہ ایک قریب ترین تعبیر ہے۔ جب سپردگی کا لمحہ آتا ہے، جب عجز اور محدودیت کا پیکراپنے آپ کو لامحدودر کمال کے حوالے کر دیتا ہے، جب پیشانی اس طرح کھنچ اٹھتی ہے گویا وہ زمین سے چپک گئی ہے۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے گویا قطرہ نے اپنے آپ کو سمندر میں ڈال دیا ہے، گویا انسان خدا سے ملتا ہے۔ خاتمہ یہ تلاوت حق اور صلوٰۃ خشوع کی مختصر ترین تشریح ہے جو میں نے آپ کے سامنے کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کوئی نئی باتیں نہیں ہیں۔ ہر وہ شخص جس نے قرآن کو پڑھا ہے وہ ان باتوں کو بخوبی جانتا ہے۔ مگر اس کے باوجود میں نے آج آپ کے سامنے ان کو اس لیے دہرایا ہے تاکہ انہیں یاد دلا کر آپ سے یہ عہدلوں کہ آپ ان کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں گے۔ آپ میں سے ہر شخص کو کسی دوسرے سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے اس معاہدہ پر بیعت کرنا ہے کہ وہ اپنے علم کو اپنا حساس بنائے گا۔ وہ جو کچھ جانتا ہے اس کو اختیار کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر آپ سچ پر یہ اققرار کریں یہ توقین مانئیے کہ یہ کائنات آپ کے لیے سلام در حیا کی آواز سے اس طرح گونج اٹھے گی کہ آپ کے کان اس کی آواز سنیں گے، اور آپ کے لیے خدا کی جنت کے دروازے اس طرح کھول دیے جائیں گے کہ آپ جیتے جی اس کی خوشبو محسوس کریں گے۔ اور اگر آپ اس عہد کے لیے تیار نہ ہوں تو وہ سب کچھ جو اجالے میں ہے اور وہ سب کچھ جو اندھیرے میں چھپا ہوا ہے، گراہ ہے کہ خدا کے یہاں اب آپ کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا، کیونکہ اگر آپ ان باتوں کو پہلے سے جانتے ہیں، آپ نے خدا اپنے اوپر حجت تمام کر دی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اپنے کو نہیں بدلتے تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے پاس وہ کون سا سہارا ہے جس کے بل پر آپ رب العالمین کے سامنے اتنی بڑی جسارت کر رہے ہیں۔ (زندگی ذی الحجہ ۱۳۸۰ھ) تقریر اجتماع جماعت اسلامی ہند، مقام بدایوں، ۱۷ تا ۱۹ اپریل ۱۹۶۱ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader