مومن کی تصویر
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
مومن کی تصویر آج کا یہ اجتماع جس میں ہم آپ جمع ہوئے ہیں، یہ گویا ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے جماعت اسلامی کی دعوت پر ملک کے گوشے گوشے سے یہاں جمع ہو کر آپ نے اس بات کا مظاہرہ کیا ہے کہ پچھلے پندرہ سال کے اندر ہم اس ملک میں کتنا کام کر چکے ہیں اور یہاں جو کارروائی انجام پائے گی وہ ہماری طرف سے اس بات کا اعلان ہوگا کہ آئندہ ہم اس ملک میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ گویا ماضی اور مستقبل کے درمیان کا ایک وقفہ ہے جس کو ہم دار السلطنت یا قرآن کے الفاظ میں اس ملک کے ام القرٰی میں گزار رہے ہیں۔ اس وقت میں جو کچھ عرض کروں گا وہ ہمارے اس تاریخی دن کے دوسرے پہلو کا ایک جزبہ ہے۔ خدا میری اور آپ کی مدد فرمائے۔ حضرت معاذؓ خدا کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک گفتگو کی روداد ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔ قَالَ أَلاَ أَدُلُّكَ بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذَرْوَةِ سنَامِہ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ـ قَالَ رَأْسُ الأَمْرِ الإِسْلَامُ وَعَمُوْدُہ الصَّلٰوةِ وَذِرْوَةُ سَنَامِہ الجِهَادُ (احمد، ترندی، ابن ماجہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ دین کا سرا کیا ہے اور اس کا ستون کیا ہے اور اس کی سب سے بلند چوٹی کیا ہے۔ میں نے جواب دیا؛ ہاں اے خدا کے رسول! آپ نے فرمایا۔ دین کا سرا اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ اس حدیث کے مطابق دین کے تین درجے ہیں ۔ اسلام، نماز اور جہاد۔ یہ تین الفاظ دراصل تین مختلف عمل کے عنوانات ہیں جو ایمان لانے کے بعد کسی کی زندگی میں ابھرتے ہیں۔ اسلام اس کا پہلا عمل اور اس کی بنیاد ہے اور نماز وہ چیز ہے جو اس عمارت کو اوپر اٹھاتی ہے اور جہاد اس کی آخری منزل ہے۔ سب سے پہلے اسلام کو لیجیے۔ اسلام کے معنی سپردگی اور جانثارگی کے ہیں۔ بندہ جب اپنے خدا کو پالے اور اپنے آپ کو بالکل اس کے حوالے کردے تو اسی کو اسلام کہتے ہیں۔ اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کا فنا فی اللہ ہے جس میں بندہ اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور جسمانی طور پر اپنے الگ وجود کو باقی رکھتے ہوئے نفیاتی طور پر خدا کی ہستی میں گم ہو جاتا ہے۔ یہ آدمی کے پورے وجود کا خدا کے تصور میں ڈھل جانا ہے۔ اسلام یہ ہے کہ ہمارا ذہن اس حقیقت پر بالکل مطمئن ہو جائے کہ اس کائنات کا ایک خالق اور مالک ہے۔ ہمارے احساسات میں وہ اس طرح شامل ہو جائے کہ رگ رگ میں ہم اس کی کھٹک محسوس کرنے لگیں۔ ہم اپنے آپ کو اس طرح اس کے حوالے کر چکے ہوں کہ کسی معاملے میں اس کے خلاف جانے کا تصور تک نہ کر سکیں، ہمارا ذہن اسی کے بارے میں سوچتا ہو اور ہمارے جذبات اسی کے لیے متحرک ہوتے ہوں، ہم سب سے زیادہ اس سے ڈرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader