Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

مومن کی تصویر

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوں تو آپ کا دل بے قرار ہو جائے اور آپ اپنے رب سے عرض کریں کہ خدایا ! جو کچھ تو آخرت میں ان کے سامنے کھولنے والا ہے اس کو میں دنیا میں ان کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں، تو مجھے اس کی توفیق دے۔ جو شخص اس مقام سے بول سکے وہی دراصل داعی بن سکتا ہے اور جس کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو اس کو جانا چاہیے کہ وہ ابھی داعی بننے کے قابل نہیں ہوا ہے۔ اس کو دوسروں کی اصلاح کے لیے اٹھنے سے پہلے خود اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ لوگوں کو خدا کی طرف بلانا، دنیا میں نظام عدل قائم کرنا، شیطان اور طاغوت کے خلاف جنگ کرنا، یہ جہاد فی سبیل اللہ کے میدان ہیں۔ مگر یہی جہاد فی سبیل اللہ کا مقصود و مطلوب نہیں ہے۔ جہاد اصل میں مومن کو مشکلات میں ڈال کر اس کا امتحان لینا ہے اور اس کو ایک ایسا موقع فراہم کرنا ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنی ارتقاء کے لامحدود منازل طے کر سکے۔ جس طرح انسان کے مادی وجود کو باقی رکھنے اور اس کو نشوونما دینے کے لیے زمین و آسمان کی بے شمار چیزیں درکار ہیں۔ ٹھیک اسی طرح انسان کے روحانی ارتقاء کے لیے ایک وسیع میدان بلکہ پوری کائنات کی ضرورت ہے۔ نظام اسلامی کا قیام اسی پھیلے ہوئے پروگرام کا ایک جزو ہے جو سماجی زندگی کے ساتھ مومنانہ کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس لحاظ سے جہاد کی تکمیل یہ نہیں ہے کہ آپ دنیا میں نظام حق قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں بلکہ جہاد کی تکمیل یہ ہے کہ آپ اپنی قوتوں کا آخری حصہ تک اس راہ میں صرف کردیں۔ خدا کے یہاں جن لوگوں کا شمار انبیاء اور شہداء میں ہو گا ان میں ایسے بھی لوگ ہوں گے جو ساری جدوجہد کے باوجود وقت کی سوسائٹی کو بدل دینے میں کامیاب نہیں ہوئے اور ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کے پیغام کو اتنی بڑی اکثریت نے قبول کر لیا کہ وہ سوسائٹی کا دین بن گیا۔ یہ دونوں قسم کے لوگ خدا کے نزدیک کامیاب لوگ ہیں۔ ان کے درمیان خدا کے یہاں کوئی تفریق نہیں کی جائے گی بلکہ وہ سب کے سب یکساں اعزاز و احترام کے مستحق ہوں گے۔ کیونکہ جدوجہد کے نتیجہ کا تعلق دوسروں سے ہے نہ کہ جدوجہد کرنے والوں سے۔ جب خادم نے اپنا کام پورا کر لیا تو بہر حال وہ اپنی خدمت کا صلہ پانے کا مستحق ہو گیا۔ خواہ دوسرے لوگوں نے اس کی خدمت کو تسلیم کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اس جدوجہد کا پروگرام کیا ہے، اس کو جاننے کے لیے آپ کو دور جانے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ واقعہ کہ جو حقیقت آپ کے اور پرنکشفت ہوئی ہے آپ کے ماحول کے بے شمار لوگ اس سے ناواقف ہیں۔ بس یہی آپ کے پروگرام کو متعین کر دیتا ہے۔ اسلامی شعور حاصل ہونے کے بعد جب ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی امتحان کی زندگی ہے اور ہر شخص جنت یا جہنم کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے تو اسی سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو آنے والے دن سے ہوشیار کریں۔ ہمارا جہاد یہ ہے کہ خدا کے عذاب سے دور بھاگنے کے لیے اپنی ساری کوشش صرف کر دیں۔ مومن کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ حالات کے مطابق لوگوں کو ان کی دنیوی مشکلات سے نکلنے میں مدد دے۔ مگر زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ دنیوی مشکلات سے نجات پانا نہیں ہے بلکہ آخرت کے عذاب سے نجات پانا ہے۔ مومن کا اصل کام یہ ہے کہ اپنی کوششوں کو اس راہ میں صرف کرے، لوگوں کو جہنم سے بچانے کے لئے وہ اپنی ساری طاقت لگا دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page