مومن کی تصویر
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ دعوتی جدوجہد اور خدا کی راہ میں آخری حد تک ٹھہرنے کی اسی کوشش کا نام جہاد ہے جس کو حدیث میں ’’دین کی سب سے بلند چوٹی‘‘ کہا گیا ہے۔ جہاد اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ بندے کے لیے ایک ایسا میدان فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی تمام کوششوں کو خدا کی راہ میں لگا سکے۔ جہاد کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنی کوششوں کو آخری حد تک صرف کر ڈالے تاکہ خدا اپنی رحمتوں کو اس کے اوپر آخری حد تک نڈھادے، جہاں تکلیفوں اور دشواریوں کے میدان میں اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت دنیا ہے۔ آدمی اکثر اپنی کوتاہیوں کے جواب میں دشواریوں کی ایک فہرست پیش کر دیتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی دشواریاں وہ قیمتی مواقع ہیں جن کے خلاف جد و جہد کر کے آپ اپنے رب کو خوش کر سکتے ہیں۔ آپ جن ذاتی مسائل کی بنا پر اسلام کی طرف بڑھنے سے رک رہے ہیں، وہ دراصل آپ کے لیے ترقی کے زینے ہیں۔ یہ اس لیے نہیں ہیں کہ آپ ان کو دیکھ کر رک جائیں ۔ وہ اس لیے ہیں تاکہ آپ انہیں پھاند کر آگے بڑھ جائیں۔ خدا کے نزدیک اس کا سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو اپنی تمناؤں کو اس کے لیے دفن کر دے، جو اپنے آرام کو اس کی خاطر چھوڑ دے، جو اپنی مشکلات کو نظر انداز کر کے اس کی طرف چلا آئے۔ دنیا میں کسی شخص کی کامیابی یہ نہیں ہے کہ وہ یہاں کچھ حاصل کرلے ۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا، ’’ سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا، ’’وہ شخص جو اپنی بہترین سواری لے کر نکلا اور میدان جنگ میں اس کا گھوڑا مارا گیا اور وہ خود بھی شہید ہو گیا۔‘‘ گویا سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہے جو بالکل لٹا ہوا اپنے رب کے پاس پہنچے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو اس کے اوپر انڈیل دے گا۔ محترم رفقاء! یہ اجتماع جس میں آپ اس وقت شریک ہو رہے ہیں اس کی بہترین تعبیر میرے نزدیک یہ ہے کہ یہ آپ کی طرف سے تجدید عہد ہے۔ آپ نے جماعت میں شریک ہو کر پہلے دن اپنے رب سے جو معاہدہ کیا تھا، یہ اس معاہدہ پر آئندہ قائم رہنے کا عزم ہے جو آپ اپنے سیکڑوں رفقار کے سامنے کر رہے ہیں اور جس پر خدا اور اس کے فرشتے گواہ ہیں۔ اگر پچھلی مدت میں آپ اپنے معاہدے کو پورا کرنے والے ثابت ہوئے ہوں، اگر آپ کے دن اور آپ کی راتیں اس بات کی شہادت دیتی ہوں کہ آپ اپنے معاہدے میں پورے اترے ہیں تو میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اس تجدید عہد کا موقع ملنا آپ کے لیے آپ کے رب کی طرف سے خوش خبری ہے۔ یہ آپ کی کوششوں کے قبول کیے جانے کا نشان ہے۔ اور اگر آپ اپنے معاہدے کو پورا کرنے میں کوتاہ ثابت ہوئے ہوں تو ایسی صورت میں آپ کو یہاں آنے کی توفیق دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس بات کا ایک اور موقع دیا گیا ہے کہ آپ اپنے معاہدے کی اہمیت کو سمجھیں اور جو کچھ ہوسکے نہیں کر سکے اس کو آئندہ کرنے کا عزم لے کر یہاں سے واپس جائیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں اپنی موجودہ زندگی ہی میں کر سکتے ہیں اور اس زندگی کی مدت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader