مومن کی تصویر
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت کم ہے ۔ کتنے لوگ ہیں جن کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا مگر آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آج ہمیں دیکھ رہے ہیں ایک وقت آئے گا کہ ہم ان کو دیکھنے کے لیے اس دنیا میں موجود نہ ہوں گے۔ ہم اپنی عمر پوری کر کے اپنے رب کے پاس جا چکے ہوں گے۔ ہماری موجودہ زندگی وہ پہلا اور آخری لمحہ ہے جب کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے کچھ کر سکتا ہے۔ نہ اس سے پہلے ایسا کوئی موقع انسان کو ملا تھا اور نہ اس کے بعد ایسا کوئی موقع انسان کو ملے گا۔ ہم ایک ایسے امتحان سے گزر رہے ہیں جس کا ایک لازمی نتیجہ ہمارے سامنے آنے والا ہے اور بہت جلد ہم ایک ایسے نتیجے سے دوچار ہوں گے جس کے بعد پھر کسی تیاری کا موقع ہم کو نہیں ملے گا۔ زندگی کا ہر لمحہ جو آپ صرف کر رہے ہیں، خوب سمجھ لیجیے کہ آخری طور پر صرف کر رہے ہیں، کیونکہ وہ پھر واپس آنے والا نہیں ہے۔ خدا کا دین ہم سے ہماری زندگی مانگ رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنا پورا وجود اس کے سپرد کر دیں۔ ہمارے دن اور ہماری راتیں اس کے لیے وقف ہو جائیں اپنی طاقت کا آخری حصہ تک ہم اس کی راہ میں لگا دیں۔ جو لوگ اس سرفروشانہ جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں اور جن کے اندر اپنے آپ کو قربان کرکے دین کی خدمت کرنے کا حوصلہ ہو، وہی دراصل دین کی خدمت کریں گے اور جن کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو، وہ صرف اپنی خدمت کر سکتے ہیں۔ خدا کے دین کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں۔ (ماہنامہ زندگی رام پور جب ۱۳۸۰ھ) نوٹ: جماعت اسلامی کے کل ہند اجتماع بمقام دہلی میں کی گئی ایک تقریر ۱۲ نومبر ۱۹۶۰ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader