با مقصد زندگی
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنائے، ضروری ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی اور اپنی روزانہ کی سرگرمیوں کو اپنے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ رکھے، وہ دونوں میں کوئی تضاد پیدا نہ ہونے دے۔ بامقصد آدمی ایک باشعور آدمی ہوتا ہے، اگر اس کے اندر حقیقتاً ایک مقصد اترا ہوا ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے عملی حالات اور ایسے مشاغل کی طرف نہ لے جائے جہاں وہ اور اس کا مقصد الگ الگ ہو جائیں۔ جب وہ ویسا بنکر نہ رہ سکے جیسا اپنے مقصد کے اعتبار سے اسے بن کر رہنا چاہئے۔ میں ایک ایسے مسلم خاندان کو جانتا ہوں جس کی آمدنی اتنی تھی کہ وہ معقول طریقہ سے ایک سادہ زندگی گزار رہا تھا اور اسی کے ساتھ دین کے تقاضے بھی پورے کر رہا تھا۔ اس کے بعد اس کے یہاں ایک لڑکی اور ایک لڑکے کی شادی ہوئی۔ اس کے مقصد کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ شادی کو اس طرح کرے کہ اس کی وجہ سے اس کے گھر میں معمول کے مطابق زندگی چل رہا ہے اس میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔ مگر اس نے پہلی غلطی یہ کی کہ شادی کے لئے ایک ایسے خاندان کا انتخاب کیا جس کا معیار زندگی اسکے مقابلے میں بڑھا ہوا تھا۔ پھر شادی بھی اس طرح کی جیسے عام دنیا دار لوگ اپنی شادیاں کرتے ہیں۔ اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف اس کے گھر کا سارا سرمایہ شادی میں لگ گیا بلکہ وہ کافی مقروض بھی ہو گیا۔ اس کے پیچھے اس کا سارا کاروبار اجڑ گیا۔ اگر صرف اتنا ہی نقصان ہوا ہوتا جب بھی غنیمت تھا، کیوں کہ جس طرح مختلف قسم کے دستی حادثے آدمی کے اوپر پڑتے ہیں اور پھر وہ سنبھل جاتا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ سنبھل جاتا۔ مگر شادی نے اس کو ایک نئی مصیبت میں ڈال دیا۔ جس کا پہلے اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اپنی لڑکی کو اس نے جو کپڑے اور سامان دینے اور سسرال سے اس کے لئے جو کپڑے وغیرہ آئے، اس کی وجہ سے شادی شدہ لڑکی کی پوشش اور رہن سہن کا معیار یکایک بہت بڑھ گیا۔ اور جب گھر کی ایک لڑکی کا معیار بڑھتا تو اس کے ساتھ دوسروں کا لحاظ کرنا ضروری تھا۔ پھر اسی کے ساتھ نئے فرنیچر سے لدی ہوئی پوری ایک گاڑی بھی اس کے گھر اتری ان چیزوں کے نتیجہ میں اس کی گھریلو زندگی کا معیار بالکل مصنوعی طور پر یکایک بدل گیا۔ اب ہر چیز میں پہلے سے زیادہ خرچ ہونے لگا۔ اس طرح ایک طرف پچھلے قرضوں کی ادائیگی اور دوسری طرف بڑھے ہوئے اخراجات کو پورا کرنا، ایسے دو پاٹ بن گئے جن کے نیچے اس کی زندگی پس کر رہ گئی، اس کا گھر دیکھتے دیکھتے یک دیندار گھر آنے سے ایک دنیا دار گھر اتنے میں تبدیل ہو گیا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ میں نے کتنے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اسی طرح وہ اپنے دنیوی معاملات میں ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ بالآخر وہ انھیں گھسیٹ کر تباہی کے غار میں پہنچا دیتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader