Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

با مقصد زندگی

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، جو شخص کسی مقصد کے لئے دنیا میں جینا چاہتا ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ با شعور زندگی گذارے۔ وہ اپنی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس مادی دنیا میں ہر وقت اس کا امکان ہے کہ آدمی ایسے بندھنوں میں اپنے آپ کو پھنسا لے جس کے بعد وہ ظاہر زندہ نظر آتا ہو، مگر مقصد کے اعتبار سے اس نے خود کشی کرلی ہو۔ دنیا کی نمائشی چیزوں میں دل چسپی مادی ساز و سامان کی کثرت ، سطحی مشاغل میں پڑنا ، غیر ضروری عادتوں میں اپنے کو ڈالنا ، پست لٹریچر کا مطالعہ ــــ یہ وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو مقصد سے دور کر دیتی ہیں ، اس کے وقت کو غیر ضروری مشغولیتوں میں لگا دیتی ہیں، اس کے جذبات واحساسات کو مقصد کے بارے میں کمزور کرکے دوسری چیزوں کے بارے میں شدید کر دیتی ہیں۔ اس کو ایسے تعلقات اور ایسے تقاضوں میں الجھا دیتی ہیں کہ وہ نہ چاہنے کے باوجود دوسری طرف کھنچتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کو اسلام عزیز ہے اور آپ اس کو اپنا مقصد بنا کر اسی کے لئے جینا اور اسی کے لئے مرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے لازم ہے کہ اپنی عملی زندگی ، اپنے تعلقات اور اپنی روزانہ کی مصروفیتوں کو اس سے ہم آہنگ رکھیں ، آپ دونوں میں کوئی تضاد پیدا نہ ہونے دیں۔ اس معاملے میں آپ کو اس ہوشیار طبیب کی طرح بن جانا چاہئے جو اپنی انگلیوں تک کی اس حیثیت سے حفاظت کرتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے دوچار نہ ہوں کہ وہ نبض دیکھنے کی صلاحیت کو کھو دیں پھر ایک مسلمان کا مقصد اس سے زیادہ نازک اور اس سے زیادہ مشکل ہے ، اس لئے آپ کو اس سے زیادہ ہوشیاری کے ساتھ اپنی حرکات پر نظر رکھنی چاہئے۔ ۳- تیسری چیز بامقصد آدمی کو پہچانسے کی یہ ہے کہ اس کے عمل میں مقصد کی روح موجود ہو۔ یہاں ”عمل“ سے میری مراد عام عمل نہیں ہے ، بلکہ وہ عمل ہے جو مقصد کے تعلق سے ظاہر ہوتا ہے۔ آپ تعجب نہ کریں۔ مقصد سے متعلق عمل بھی کبھی بے مقصد ہوتا ہے۔ بہ ظاہر آدمی مقصد کا سا عمل کر رہا ہوتا ہے، مگر حقیقتاً اس کے عمل کا مقصد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایک مثال لیجئے ۔ ہمارے یہاں جو مذہبی فرقے ہیں ان کی ابتدا بھی اصلا ایک مقصدی گروہ کی حیثیت سے ہوئی تھی۔ وہ ایک مخصوص مشن لے کر اٹھے تھے مگر ہر شخص جانتا ہے کہ آج وہ اپنی مقصدی حیثیت کو کھو چکے ہیں۔ وہ تحریک کے بجائے ایک جامد قسم کی روایتی انجمن بن کر رہ گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا مقصدی تصور ان کے ذہن سے نکل گیا ، اور نہ ایسا ہے کہ مقصد کے لئے کام کرنا انھوں نے چھوڑ دیا ہے۔ یہ سب چیزیں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں ان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ مگر ان میں اب وہ اسپرٹ باقی نہیں رہی جو ایک مشن کے علم بردار کے اندر ہوتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page