Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

یہ بے حسی کیوں

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

الگ تھلگ ہو جائیں۔ نہ بد در اصل دنیا سے حیاتی بے تعلقی کا نام ہے نہ کہ عملی بے تعلقی کا۔ جیسا کہ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا، نہ بد خراب کپڑے اور معمولی کھانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک کیفیت ہے جو دل کے اندر پیدا ہوتی ہے ظاہری شکلیں اس اندرونی کیفیت کا فطری اظہار ہیں، نہ کہ بجائے خود کسی ظاہری شکل کا نام زہد ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص جھونپڑی میں رہتا ہو مگر اپنے خیالات و احساسات کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ایک دنیا پسند آدمی ہو۔ اور دوسرا شخص اپنے آپ کو عالی شان عمارتوں کے درمیان پائے مگر دنیا پسندی سے اس کا ذہن خالی ہو نہ کہ کسی مصنوعی تدبیر کا نام نہیں ہے۔ بلکہ وہ آدمی کی ایمانی حالت کا ایک فطری اظہار ہے۔ جب کوئی شخص اعلیٰ حقیقتوں کو پا لیتا ہے تو اسفل حقیقتیں خود بخود اس کی نگاہ میں حقیر بن جاتی ہیں۔ اُخروی قدروں کی اہمیت کا احساس دنیوی قدروں کو غیر اہم بنا دیتا ہے۔ وہ اپنی ایمانی کیفیت کے بالکل لازمی نتیجے کے طور پر دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے۔ جب آپ کا ذہن خدا کی باتیں سوچنے میں اتنا مصروف ہو کہ آپ دنیا کی باتیں بھولنے لگیں، جب آخرت کی فکر آپ کے اوپر اس طرح چھا جائے کہ دنیا کے غم آپ کو یاد نہ آئیں، جب آنے والے مستقل آرام و تکلیف کا مسئلہ آپ کو اتنا فکر مند بنا دے کہ عارضی آرام و تکلیف کے مسئلے آپ کے لئے بے حقیقت ہو جائیں۔ جب کل کی زندگی آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے کہ آج کی زندگی کے بارے میں آپ لوگوں کو غافل نظر آنے لگیں، جب بلند تر حقائق کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے آپ دنیا میں اس طرح رہنے لگیں گویا آپ دنیا میں نہیں ہیں۔ جب دنیا میں آپ کوئی آرام دیکھیں تو یہ سوچ کر رو پڑیں کہ معلوم نہیں کہ آخرت میں کیا ہونے والا ہے اور جب کوئی تکلیف ستائے تو آپ کی زبان سے نکلے کہ ’’خدایا! دنیا کی معمولی تکلیف کا یہ حال ہے تو آخرت میں کیا ہوگا “، جب دنیا کی لذتیں آپ کو تسکین نہ دے سکیں اور دنیا کی زحمتیں آپ کی نگاہ میں حقیر بن جائیں ــــ جب آپ کا حال یہ ہو جائے تو اسی کا نام زہد فی الدنیا ہے۔ آنحضورؐ نے ایک بار اپنے صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رض کو پکڑ کر جو نصیحت فرمائی تھی، اس کا ایک فقرہ یہ تھا: عُدَّ نَفْسَكَ مِنْ اَهْلِ القُبُور (بخاری) اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو گویا اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو دنیا میں بھیجا ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم یہاں کی نعمتوں میں غرق ہوں اور یہاں رہ کر اپنے دل کی تمنائیں پوری کریں۔ بلکہ وہ تو یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم میں سے کون ہے جو دنیا کو اپنے توصلوں اور تمناؤں کا قبرستان بناتا ہے ۔ اس تشریح سے خود بخود یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زہد صرف محرمات دنیا سے بچنے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی حالت ہے جس میں آدمی کو بہت سی جائز چیزوں سے بھی اپنے آپ کو محروم کرنا پڑتا ہے۔ بے شک جو کچھ اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے وہی حرام ہے اور جو کچھ اس نے حلال کیا ہے وہ سب حلال ہے۔ کسی انسان کو حق نہیں کہ اس میں بال برابر کوئی ردوبدل کر سکے۔ مگر شریعت کی قانونی حدود ہمارے ارتقا کی آخری حدود نہیں ہے۔ دائرہ ایمان میں داخل ہونے کے لئے یقیناً صرف اتنا ہی کافی ہے کہ آدمی احکام کے قانونی تقاضے پورے کر دے۔ مگر ایمان کے اعلیٰ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page