یہ بے حسی کیوں
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
آشنا ہو کر بول سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ما زهد عبد فى الدنيا الا ثبت الله الحكمة جو شخص دنیا سے بے رغبت ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کے فى قلبه وانطق بها لسانه وبصره عيب الدنيا دل میں حکمت پیدا کر دیتا ہے اور اس کی زبان پر کلمات وداءها ودواءها واخرجه سالما الى دار حکمت جاری کر دیتا ہے۔ دنیا کے عیب اور اس کا مرض السلام (بیہقی فی شعب الایمان) اور علاج اسے دکھا دیتا ہے۔ اور اس کو سلامتی کے گھر (جنت) تک محفوظ لے جاتا ہے۔ یہ حکمت جو زہد کے صلے میں ملتی ہے، یہ خدا کی سب سے بڑی دین ہے جس کو قرآن میں "خیر کثیر" کہا گیا ہے یعنی سب سے بڑا خزانہ۔ قرآن کے بیان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکمت کا خزانہ اسی کو ملتا ہے جو دوسرے خزانوں سے اپنی نظریں ہٹالے، جو دنیا کی محبت سے اپنے دل کو خالی کر چکا ہو۔ چنانچہ سورہ بقرہ میں خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: يؤتی الحكمة من يشاء ومن يؤتى الحكمة اللہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو فقد اوتى خيرا كثيراً حکمت دی گئی اس کو سب سے بڑا خزانہ دے دیا گیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ "خیر کثیر" اسی کو ملتا ہے جو "خیر قلیل" سے اپنے آپ کو خالی کرے، جو خیر قلیل میں لپٹا ہوا ہو، وہ خیر کثیر سے اپنا دامن نہیں بھر سکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ آج کی صحبت میں اسی زہد فی الدنیا کے بارے میں کچھ عرض کروں۔ کیوں کہ اپنے مطالعہ اور تجربہ سے میں اس حقیقت پر مطمئن ہو چکا ہوں کہ جب تک کسی کے اندر زہد کی کیفیت پیدا نہ ہو دین کی اعلیٰ حقیقتوں کا ادراک نہیں کر سکتا اور نہ اس کے اندر کبھی گہرا عمل پیدا ہو سکتا۔ جس شخص کی آخرت طلبی نے اس کو دنیا کا زاہد نہیں بنایا، اس کے درمیان اور قرآن کے درمیان ایک "حجاب مستور" حائل رہتا ہے۔ وہ سنتا ہے مگر نہیں سنتا، وہ سنتا ہے مگر نہیں سمجھتا۔ (بنی اسرائیل ۴۶-۴۵) زہد فی الدنیا کے معنی ہیں دنیا سے بے رغبتھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا سے دل چسپسی کا تعلق ختم کر کے اس سے صرف ضرورت کا تعلق باقی رکھا جائے۔۔ یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں النجاتی من دار الغر میں در کہا گیا ہے ۔ دھوکا دینے والی جگہ سے دور رہنا اس دوری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دنیا کے کاروبار سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader