Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

یہ بے حسی کیوں

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

۴۔ زہد فی الدنیا کا ایک اور پہلو ہے۔ وہ یہ کہ ایسا آدمی حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیجیئے کہ نا جائز چیزوں کے ارتکاب سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو جائز حدود میں بھی پناہ کر چلتا ہے۔ جو تمام "جائزہ" چیزوں کو اپنا ضروری حق سمجھے، ایسے آدمی کے لئے ہر وقت خطرہ ہے کہ وہ کسی حرام کام میں پڑ جائے۔ حدیث کے الفاظ میں، ہر بادشاہ کی ایک ممنوعہ چرا گاہ ہوتی ہے اور خدا کی چرا گاہ وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام قرار دیا ہے۔ جو شخص سرحد تک مویشی چراتا ہوا پہنچ جائے اس کے لئے ہر آن یہ خطرہ ہے کہ مویشی کہیں چرا گاہ کے اندر نہ گھس جائیں۔ (متفق علیہ) عورتوں کے لئے زیب و زینت بالکل جائز ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہر وہ گھر جس نے اس جواز کو اپنے لئے کھلا دروازہ سمجھ لیا ہے، آج اس کے یہاں غیر ساترو ملبوسات اس طرح استعمال ہونے لگے ہیں کہ اب لوگوں کو شاید ان کے ممنوع ہونے کا بھی احساس نہیں رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل کے بے دین گھرانے اور اسلام پسند گھرانے میں بس اتناہی فرق رہ گیا ہے کہ ہمارے گھروں کی عورتیں اور لڑکیاں خاندان اور رشتہ کے لوگوں اور دوسرے ملنے والوں کے سامنے اپنی غیر شرعی پوشاک کا مظاہرہ کرتی ہیں اور دوسرے گھرانوں کی عورتیں اپنے اس فتنہ کو لئے ہوئے بازاروں اور سڑکوں پر نکل آتی ہیں۔ اسی طرح سرکاری ملازمتوں میں جو لوگ ترقی کرتے ہیں یا بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں وہ ضمیر کی قربانی دے کر ہی ان مناصب تک پہنچتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں کسی اونچی کرسی کو اپنی نشست گاہ بنانے کے لئے جو لیاقت درکار ہے اس میں سے ایک ضروری چیز یہ بھی ہے کہ دین کو آپ اپنے اندر سے کھڑیا کر نکال دیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بادشاہوں سے تعلق رکھنے والوں کے بارے میں کہا تھا " اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تم ان کی دنیا میں سے جتنا پالوگے اس سے زیادہ وہ تمھارے دین میں سے لے لیں گے"۔ یہ بات جدید بادشاہت کے بارے میں بھی اسی طرح صحیح ہے جیسے وہ قدیم بادشاہت کے بارے میں صحیح تھی۔ اس فرق کے ساتھ کہ پہلے وہ دین کا زیادہ حصہ لیتے تھے اور اب وہ آپ کا کل دین لے لیتے ہیں۔ ایک بڑے تاجر نے ایک مرتبہ کہا کہ موجودہ زمانے میں بالکل جائز طریقہ پر کوئی بڑا کاروبار نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں آپ کی آمدنی ایک خاص حد سے آگے بڑھی، بے شمار قوانین آپ کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ آپ مجبور ہوتے ہیں کہ غلط طریقے سے کام کریں۔ ورنہ آپ کو کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔ اتنے بڑے کاروبار کا آپ کو مکلف کس نے کیا ہے" جواب دینے والے نے جواب دیا۔ مگر موجودہ انسان کو اس قسم کے جوابات سے کوئی دل چسپی نہیں۔ اس نے تو یہ طے کر رکھا ہے کہ وہ اپنے امکان بھر ان تمام نعمتوں کو حاصل کرے گا جو خدا نے زمین پر پیدا کی ہیں۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہوگیا ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو اپنے لئے حلال کرے جس کو خدا نے حرام ٹھہرایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا ہر واقعہ جو آپ کو اپنے گرد و پیش نظر آتا ہے، وہ صرف حکمت نہ حد سے محرومی کا ثبوت نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی بڑھتے بڑھتے خدا کی حرام کی ہوئی چرا گاہ میں گھس گیا ہے۔ اس کے بغیر وہ اتنی غیر معمولی فربی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ ممکن ہے یہ باتیں سن کر آپ کہیں کہ اسلام کا مطلب اگر یہی ہے تو اس کا پانا بہت مشکل ہے۔ بیشک اسلام کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page