یہ بے حسی کیوں
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
پانا بہت مشکل ہے مگر وہ خدا کی مدد سے آسان ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح نے جب روحِ دین کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناک میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو، تو ان کے شاگرد یہ سن کر بہت اچھے میں پڑ گئے اور کہنے لگے کہ پھر کون نجات پا سکتا ہے۔ آپ نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا " یہ آدمیوں سے تو نہیں ہو سکتا لیکن خدا سے سب کچھ ہو سکتا ہے"۔ اگر آپ اسلام کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ وہ حیات طیبہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں جو اللہ تعالی کو مطلوب ہے تو اس کو پانے کی صورت یہی ہے کہ آپ اسے خدا سے مانگیں۔ دوسری تمام چیزوں کی طرح یہ سب سے قیمتی چیز بھی آپ کو خدا ہی سے ملے گی۔ کہیں اور سے آپ اسے حاصل نہیں کر سکتے۔ مگر یاد رکھنے خدا سے مانگنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دعا کے کچھ مقرر الفاظ یاد کر لیں اور اسے اپنی زبان سے دہرا دیا کریں ایک عیسائی عالم کے الفاظ میں :- God is not a Cosmic belly-boy for whom we can press a button to get things. خدا سے مانگنے کی اصل زبان وہ نہیں جو لفظوں کی صورت میں اپنے مطالبات کا اظہار کرتی ہے۔ اس سے مانگنے کی زبان آپ کا قلب ہے۔ آپ اپنی حقیقی زندگی سے جو کچھ چاہ رہے ہیں وہی دراصل آپ اپنے رب سے مانگتے ہیں۔ خدا آپ کے لفظوں کو نہیں دیکھتا، وہ خود آپ کو دیکھتا ہے۔ آپ اپنے اصل وجود میں جس چیز کے لئے بے قرار ہوں اپنے رب سے آپ اسی چیز کے طلب گار ہیں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دیدے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو نسیان میں مبتلا کر دے۔ آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور وہ آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے، آپ کیفیت سے بہری ہوئی دینداری مانگیں اور وہ آپ کو بے روح دینداری میں پڑا رہنے دے آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی تاریک کوٹھری میں بند کر دے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ ٹہلنے لے کر بازار جائیں تو ظاہر ہے کہ پیسے خرچ کرنے کے باوجود آپ خالی ہاتھ واپس لوٹیں گے۔ اسی طرح اگر زبان سے آپ دعا کے کلمات دہرا رہے ہوں مگر آپ کی اصل ہستی کسی اور طرف متوجہ ہو تو میں کہوں گا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا۔ جو مانگے وہ کبھی محروم نہیں رہ سکتا۔ یاد رکھیے، یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے نہ دی ۔ بخدا یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے سارے خزانے کے ساتھ آپ کے قریب ترین آکر آواز دیتا ہے۔ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، مگر جھیں لینا ہے وہ سو رہے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔ (زندگی شعبان ۱۳۸۱ھ) تقریر حلقہ زار اجتماع جماعت اسلامی هند بمقام جون پور۔ ۱۳ نومبر ۱۹۶۱

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader