دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
درجنوں پیٹرولیمکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوا اور دوسرے دن دوپہر تک ہوتا رہا۔ بالآخر انجینئر نے کہہ دیا کہ اب باندھ قابو سے باہر جا چکا ہے۔ ۱۲ بجے دن کے بعد باندھ ٹوٹ گیا اور دم کے دم میں پانی سڑکوں پر بہنے لگا۔ سارے شہر میں کہرام مچ گیا۔ دکانیں بند ہوگئیں۔ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے اس طرح دوڑ رہا تھا گویا ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ زندگی کے مسائل سمٹ کر بس سیلاب کے گرد جمع ہو گئے اور چند دنوں کے لئے شہر میں قیامت کا منظر دکھائی دینے لگا۔ اس سیلاب میں ہمارے لئے بہت سی نصیحتیں اور عبرتیں ہیں مگر میں اس وقت جس چیز کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ایک اس سے بھی زیادہ ہولناک طوفان: نہ صرف ایک ضلع کو بلکہ ساری دنیا کو گھیرے ہوئے ہے اور تمام انسانوں کی زندگی اس کی زد میں ہے۔ سیلاب کا خطرہ ایک ایسا خطرہ ہے جس کو ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور سب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ ان کی زندگی کو کیا نقصان پہنچا سکتا ہے مگر حق کو اختیار نہ کرنے کا جو خطرہ ہے وہ کسی کو نظر نہیں آتا، اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ اس کی زندگی کو کیا نقصان پہنچنے والا ہے۔ سیلاب کے خطرہ سے آگاہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ ایک اعلان کر دیا جائے۔ مگر ہم جس خطرہ سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں اس کا سمجھنا بھی دنیا کے لئے مشکل ہے۔ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت اور اٹم کی حقیقت لوگوں کو سمجھائی جا سکتی ہے مگر یہ سمجھانا مشکل ہے کہ حق سے بے نیاز ہو کر دہ ایک ایسے جوالا مکھی پہاڑ کے دہانہ پر بیٹھے ہوئے ہیں جو کسی کی بھی وقت پھٹ کر ان کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ ہمارا کام محض اس طرح نہیں ہو سکتا کہ اپنے پیغام کو کسی نہ کسی طرح لوگوں کے کان میں ڈال دیں بلکہ ہمیں اس کو مدل بنا کر ان کے سامنے رکھنا ہوگا اور اس کے لئے لمبی مدت تک زبردست جدوجہد کرنی ہوگی۔ ایک ایسی چیز جو وقت کے پیمانوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ بے وزن ہے اس کو اس انداز میں پیش کرنا ہوگا کہ وہ دوسری تمام چیزوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ باوزن نظر آنے لگے یہاں تک کہ لوگ اس پر سوچنے کے لئے مجبور ہو جائیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگیں کہ اس ایک راستہ کے سوا تمام راستے بالکل غلط اور تباہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں اپنے دماغ اور اپنے جسم کی ساری قوتیں صرف کرنی ہوں گی۔ اپنے اوقات اور اپنی کمائیوں کا سب سے بڑا حصہ اس مقصد عظیم کی نذر کرنا ہو گا ر اور یہ سب کچھ کسی ایک رات اور کسی ایک دن کے لئے نہیں بلکہ سالہا سال کے لئے اور ساری عمر کے لئے کرنا ہو گا ۔ ہمیں اس مقصد کے لئے قربان ہو جانا پڑے گا اور اپنی زندگیوں کو اس راہ میں کھپا دینا ہو گا۔ جھی یہ ممکن ہے کہ لوگ ہمارے پیغام سے واقف ہوں اور آنے والے خطرہ سے آگاہ ہو کر اس سے بچنے کا سامان کر سکیں۔ پھر کون ہے جو حق کے لئے قربان ہوتا ہے۔ کون ہے جو دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے جان کی بازی لگا سکتا ہے۔ کون ہے جو اس کو چھوڑ سکتا ہے جو کہ اس کی نظروں کے سامنے ہے تاکہ وہ اس کو پاسکے جو کہ اس کی نظروں سے اوجھل ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس کا حوصلہ کر سکیں کیوں کہ وہی انسانیت کا اصل جوہر ہیں اور وہی ہیں جو زندگی کی اصل کامیابی کے حق دار ہوں گے ۔ (مطبوعہ سہ روزہ دعوت ۵ ستمبر ۱۹۵۵) تقریر ماہانہ اجتماع جماعت اسلامی، بمقام سیدھا سلطان پور (اعظم گڑھ) ۵ اگست ۱۹۵۵

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader