Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری چیزوں کا۔ فائر بریگیڈ کی طرح آپ چوبیس گھنٹہ اپنے آپ کو ڈیوٹی پر سمجھیں اور کبھی اس سے غافل نہ ہوں۔ بے شمار انسانوں کی اس بھیڑ میں چند انسان جو حق کا کام کرنے کے لئے اٹھتے ہیں یا گر دہ لوگ بھی اپنی زندگیاں اس کے لئے وقف نہ کریں تو پھر دوسرے لوگ کہاں سے آئیں گے۔ یہاں کروڑوں انسان ہیں جو اس لئے صبح کرتے ہیں کہ دن کے اجالے میں اپنی روزی کما ئیں اور اس لئے شام کرتے ہیں کہ دن بھر کی تھکان دور کر کے اگلے روز پھر اسی مشغلہ میں جفتنے کے قابل ہو جائیں۔ وہ کہیں سفر بھی کرتے ہیں تو وہ سفر تفریح کے لئے ہوتا ہے یا روزگار کے لئے۔ اس بھیڑ کے اندر دوسرے تمام لوگوں کے خلاف آپ نے ایک نئے راستہ پر چلنے کا ارادہ کیا ہے۔ آپ دنیا کے بجائے آخرت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس راہ کا تقاضا ہے کہ آپ کی راتیں اس غم میں بسر ہوں کہ جس دنیا میں آپ رہ رہے ہیں اس پر شیطان اور طاغوت کا غلبہ ہے۔ آپ کی صبحیں اس یاد کے ساتھ طلوع ہوں کہ خدا یا جس طرح سورج نے خشکی اور تری کو روشن کیا ہے اسی طرح تو انسانی زندگیوں کو بھی ہدایت سے منور کر دے۔ آپ نکلیں تو خدا کی راہ میں نکلیں اور ٹھہریں تو خدا کے لئے ٹھہریں۔ آپ جنت کے امید وار ہیں۔ پھر آپ کو معلوم ہے کہ جنت کس طرح ملتی ہے۔ جنت میں وہ قدم نہیں جائیں گے جو خدا کی راہ میں گرد آلود نہ ہوئے ہوں۔ جنت کو وہ آنکھ نہیں دیکھے گی جو خدا کے خوف سے تر نہ ہوئی ہو۔ جنت میں وہ وجود نہیں جائے گا جس نے آخرت کے لئے دنیا کی مصیبتیں برداشت نہ کی ہوں پھر سوچئے کہ آپ کہاں تک ان شرطوں کو پورا کر رہے ہیں۔ ہم اس وقت ایک ہولناک طوفان کے سرپر کھڑے ہیں۔ جس نے چند ہفتوں کے اندر اس ضلع کی تقریباً پانچ سو بستیوں کو ویران کر دیا ہے اور ہزاروں انسانوں کو متاثر کیا ہے۔ شہر کا یہ حال تھا کہ دریا کے پانی نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا جس کے درمیان وہ بالکل جزیرہ بن گیا تھا۔ کنارے کے باشندے اپنے گھروں کو اس طرح خالی کر رہے تھے کہ ان کے گھروں کی گرتی ہوئی دیواریں ان کو رخصت کر رہی تھیں۔ اس سیلاب نے پچھلے سو برس کے تمام ریکارڈ توڑ دئے ۔ شہر کے گرد ایک بہت بڑا باندھ ہے جو ۱۹۸۱ کے تاریخی سیلاب کے بعد بنایا گیا تھا۔ اسی باندھ سے اس وقت شہر کی قسمت بندھی ہوئی تھی جس کے دوسری طرف شہر کی عام سطح سے کئی گز اونچا پانی لگا ہوا تھا۔ ہر گھر میں اسی کا چرچا تھا اور ہر شخص کی زبان پر اسی کا تذکرہ تھا۔ یہاں تک کہ ۲۶ اور ۲۷ جولائی ۱۹۵۵ کی درمیانی رات کو کلکٹر کی طرف سے بذریعہ لاؤڈ اسپیکر یہ اعلان ہوا کہ : " لال ڈنگی کا باندھ ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے آپ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لئے اونچی جگہوں پر چلے جائیں؟ اس وقت رات کے ایک بجے تھے۔ سارا شہر جاگ اٹھا اور عجیب ہنسنی پھیل گئی۔ لوگ اپنے کچے اور پکے گھروں سے نکل کر باندھ کی طرف دوڑے اور سیکڑوں آدمیوں نے پھاؤڑا اور بوریا لے کر اس جگہ مٹی ڈالنی شروع کر دی جہاں سے باندھ پھٹ گیا تھا۔ ایسے ایسے لوگ جنھوں نے شاید زمین پر کبھی ننگے پاؤں قدم بھی نہ رکھا ہوگا۔ وہ سردوں پر مٹی کا ٹوکرا لے کر ڈھو رہے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page