دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھو ایک ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ ایک انصاری عمیر بن حمام نے یہ سنا تو ان کی زبان سے بے ساختہ کے الفاظ نکل گئے یعنی خوب! آپ نے فرمایا ، تم نے یہ نخ کیوں کہا۔ انھوں نے جواب دیا۔ خدا کی قسم صرف اس لئے کہ شاید میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں تم انہی میں سے ہو۔ یہ سن کر انھوں نے اپنے برتن میں سے کچھ کھجوریں نکالیں اور اسے کھانے لگے۔ پھر بولے ان کھجوروں کو کھانے کے لئے میں کب تک زندہ رہوں گا ۔ اِنَّهَا لَحَيُّوۃٌ طَوِیْلَةٌ یہ تو بڑی لمبی زندگی ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے بقیہ کھجوریں ایک طرف ڈال دیں اور جنگ میں کود پڑے اور لڑ کر شہید ہوگئے “ (مسلم) مگر خود ان مبلغین کا کیا حال ہے ۔ مذکورہ صحابی نے تو خدا تک پہنچنے کے شوق میں اپنی دائمی خوراک پھینک دی تھی مگر یہ حضرات اپنے ذوق اور اپنی عادتوں کو بھی خدا کی خاطر پھینکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ بدر کے میدان میں اسلام اور کفر کا جو معرکہ ہوا تھا وہ آج ہر لگی اور ہر شرک پر پوری شدت کے ساتھ جاری ہے مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ وقت کے اس غروزے میں شرکت کے لئے اپنے موجودہ مفاد کو ترک کرنا تو درکنار ، مستقبل کی تمناؤں اور اپنی آنے والی پشتوں کے مفاد کو بھی خدا کے دین کے لئے خطرے میں ڈالنا وہ گوارا نہیں کر سکتے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اسلام کے دعوے کے ساتھ اتنے بڑے تضاد کو لوگ کس طرح اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہیں۔ ہر بار مجھے یہی جواب ملا کہ در اصل ”تاویل“ کے فتنے نے لوگوں کو اس تضاد میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہر آدمی نے اپنے طرزِ عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کچھ خوب صورت جوابات رکھے ہیں اور ضرورت کے وقت وہ فوراً انھیں پیش کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان ڈاکٹر کو میں نے ایک بار دعوتِ دین کی جدوجہد میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔ انھوں نے فوراً اپنے پیشے کی اہمیت پر تقریر شروع کر دی۔ ان کے نزدیک ان کا پیشہ خدمت خلق کا ایک زبردست کام ہے جس کو وہ رات دن کی محنت سے انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے بعض سنگین مریضوں کا ذکر کیا جو ان کے زیر علاج تھے ۔ انھوں نے کہا ” بتائیے میں انھیں چھوڑ کر کیسے کہیں جا سکتا ہوں۔ میرا ایسا اقدام انسانیت دوستی ہوگی یا انسانیت دشمنی “ بظاہر یہ بہت معقول جواب ہے۔ لیکن اگر میں آپ کو یاد دلاؤں کہ اکثر ڈاکٹروں کی ” انسانیت دوستی “ ہمیشہ ان مریضوں کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے جو اس کے زیر علاج ہوں اور ان میں بھی سب سے زیادہ اس کی توجہ کے مستحق وہ مریض ہوتے ہیں جو زیادہ “ قیمتی گاہک “ ہوں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ اس خدمتِ خلق کی حقیقت کیا ہے ۔ اسی طرح ہر شخص کے پاس اپنے طرز عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ایک جواب موجود ہے۔ کوئی لوگوں کی ناکردگی کو اس بات کے لئے کافی سمجھے ہوئے ہے کہ وہ خود بھی کوئی کام نہ کرے، کوئی دوسروں کے غلط خیالات کو اپنے لئے رکاوٹ سمجھتا ہے کوئی دقتوں اور پابندیوں کی ایک فہرست لئے بیٹھا ہے، کسی کو ایک ایسا فقہی اور قانونی پیمانہ مل گیا ہے جس سے ناپنے میں اس کا جامہ بالکل درست اترتا ہے، کسی نے احادیث کے ذخیرے میں سے اپنے مناسب حال چند موزوں حدیثوں کو چھانٹ لیا ہے جو اس کے طرز عمل کو صحیح ترین ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اسی طرح ہر شخص کے پاس اپنے غیر اسلامی رویے کی ایک اسلامی توجیہہ اور اپنی آخرت فراموش زندگی کی ایک خالص دینی تاویل موجود ہے۔ اور اگر آپ ان تاویلات کی حقیقت کھول دیں تو موجودہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader