Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

دور میں شیطان نے چند ایسے الفاظ مہیا کر دئے ہیں جن کے ذریعہ کسی بھی صحیح ترین تنقید کو نہایت آسانی سے رد کیا جا سکتا ہے ے "یہ شدت پسندی ہے۔" "یہ تمھارا انتہا پسندانہ رویہ ہے۔" "تم ایک رُخنے انداز میں سوچتے ہو" "تم اعتدال کے راستے سے ہٹ گئے ہو" وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ آپ کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ کیوں کہ خدا کے رسول پہلے ہی اعلان فرما چکے ہیں کہ اَلِدِّيْنَ يُسْرُ ! مگر یاد رکھیے آج آپ ایک ناصح کو ان جوابات سے خاموش کر سکتے ہیں۔ مگر خدا کے یہاں اس قسم کے جوابات ہر گز کافی نہ ہوں گے۔ وہاں تو آپ کی پوری زندگی کا بخیہ ادھیڑ رکھ دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تم خود دیکھ لو کہ دنیا کی زندگی میں تم جن مشاغل میں مصروف تھے ان کے پیچھے کیا کیا محرکات کام کر رہے تھے۔ میرے ایک ساتھی نے ایک مرتبہ بہت عمدہ بات کہی۔"آخرت میں خدا کا انعام اسی کو ملے گا جس نے دنیا میں خدا کے انعام کو پالیا ہو۔" اس بات پر غور کیجئے تو اس میں نصیحت کے بہت سے پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ آپ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں، آپ دین حق کے علم بردار ہیں، یہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آپ خدا کی جنت کے امیدوار ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ انعام "جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا، وہ محض دعوؤں اور خوش گمانیوں کے ذریعہ تو کسی کو نہیں مل سکتا۔ یہ انعام صرف اس کے لئے ہے جس نے دنیا میں اپنی آخرت طلبی کو نمایاں طور پر ثابت کر دیا ہو، جس نے اپنے مسلسل رویے سے یہ دکھا دیا ہو کہ دوسرے انسانوں کے مقابلے میں وہ اس کے پانے کا استحقاق رکھتا ہے۔ جب دوسرے لوگ دنیا کی لذتوں میں کھوئے ہوئے تھے تو وہ خدا کے انعام کے تصور میں اتنا محو ہوا کہ اسے دنیا کی لذتیں بھول گئیں۔ جب دوسرے لوگ اپنے ذوق کو تسکین دینے میں مصروف تھے تو وہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے تڑپ رہا تھا، جب دوسرے لوگ سوتے تھے تو وہ جاگتا تھا، جب دوسرے آرام کرتے تھے تو وہ تکلیف اٹھاتا تھا، جب دوسرے لوگ ہنسی اور تفریح میں دل بہلا رہے تھے تو وہ آنسو بہا رہا ہوتا تھا۔ مختصر یہ کہ جب دوسرے لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو گم کئے ہوئے تھے تو وہ آخرت کی زندگی کے لئے اپنا ایک ایک لمحہ صرف کر رہا تھا۔ جنت کا مستحق ہونا دوسرے لفظوں میں آخرت میں کسی کا ممتاز مقام حاصل کرنا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں صرف وہی شخص کسی ممتاز مقام کو پاتا ہے جس نے اس کے لئے بے پناہ جدوجہد کی ہو۔ ٹھیک اسی طرح آخرت کے درجات عالیہ بھی وہی لوگ پائیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو اس کے لئے کھپا دیا ہو۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنی سطحی زندگی کے نتیجہ میں وہ آخرت کے انعامات کو حاصل کرے گا تو یہ محض خوش فہمی ہے۔ ٹھیک دیسی ہی خوش فہمی جیسے کوئی شخص سمجھ لے کہ وہ بستر پر لیٹے لیٹے وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جب کہ دنیا اسے "فاتح ایورسٹ" کے نام سے پکارے اور اس کو وہ اعزازات نصیب ہوں جو میری اور زمین زنگ کو لمبی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئے۔ ۱۸۴۲ میں انگلینڈ کے دیہات میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ پیدائش کے وقت وہ اتنا کمزور تھا کہ دائیوں نے اس کی زندگی کی طرف سے مایوسی ظاہر کی ۔ اس کا کمزور سر حفاظت کی خاطر چمڑے کی پٹی سے لپیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد جب وہ بڑا ہو کر ہائی اسکول پہنچا تو وہ اپنے ساتھیوں میں سب سے پیچھے تھا۔ مگر یہی کمزور لڑکا جب پچاسی سال کی عمر میں مرا تو وہ نیوٹن کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page