Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

خدمتِ دین کی مشکلات

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ تم ڈرو مت۔ تمھاری ضرورت کی سب چیزیں تم کو ہماری طرف سے دے دی گئیں۔ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَى (طہ - ۳۶) یہ مانگے اور دئے جانے کا واقعہ جو قرآن میں نقل کیا گیا ہے، وہ بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایک واقعہ کی شکل میں ہماری ہی قسم کی مانگ کا حجاب ہے۔ امت محمدیہ کے افراد جو ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام پر مامور کئے گئے ہیں ان کے لئے بنی اسرائیل کے پیغمبر کا یہ واقعہ ایک پیشگی بشارت ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اگر تم ہمارے دین کی دعوت دینے کے لئے اٹھو تو ہم تم کو زبان دیں گے جس سے تم بولو گے، اور ہم تمھاری ڈھارس بندھائیں گے۔ جس کے بعد تم بڑے بڑے مواقع پر کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ہماری آواز پہنچا سکو گے۔ مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر آج کسی بندہ خدا کے اندر حقیقتاً داعی بننے کا جذبہ ابھر آئے اور وہ بے تابان اپنے رب کو پکار اٹھے کہ میں یہ کام کرنا چاہتا ہوں مگر : اللهم یضیق صدری ولا ینطلق لسانی خدایا میرا سینہ تنگ ہورہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں تو یقیناً کلام الہی اس کو دوبارہ آواز دے کر کہے گا کہ جاؤ ہم نے تم کو وہ چیز دے دی جس کی تمھیں ضرورت تھی۔ وہی خدا آج بھی اس دنیا کا خدا ہے جس نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ کو خطاب کیا تھا۔ وہ آج بھی وہی کچھ کر سکتا ہے جو اس نے ہزاروں برس پہلے اپنے ایک بندے کے ساتھ کیا تھا۔ وہ چاہے تو گونگے کو نطق بنا دے اور بولتے ہوئے شخص کو گونگا کر دے ۔ کم زور دل کو ہمت دے دے اور ہمت والے کو پست کر کے بٹھا دے ۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ پھر ہم کیوں نہ اس کے اوپر بھروسہ کریں۔ ۲۔ دوسری ضرورت جس کا اس سلسلے میں سوال پیدا ہوتا ہے، وہ معاش کا مسئلہ ہے۔ آج میں جب دین کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اٹھتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی اپنی ضروریات تو ختم نہیں ہو جاتیں۔ اس کے جسمانی تقاضے، اس کا گھر، اس کا خاندان، اس سے بہت سی چیزیں مانگتے ہیں۔ اگر وہ دین کے کام کی طرف جھکے تو ذاتی کاموں میں کمی ہوتی ہے اور ذاتی ضروریات میں اپنی توجہ صرف کرے تو دین کا خانہ خالی رہ جاتا ہے۔ یہ دوسرا سوال ہے جو ہر دامی کے سامنے لازماً پیش آتا ہے اور اس کو پریشان کرتا ہے۔ یہ سوال لے کر ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں تو بہت سے مقامات ہم کو ملتے ہیں جہاں اس معاملہ میں ہم کو خدا کی مدد کا یقین دلایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ہم قرآن کی ۶۵ ویں سورہ میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں یہ الفاظ لکھے ہوئے پاتے ہیں: وَ مَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يجعل له مخرجاة يرزقه من جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا تو اللہ اس کے لئے کشادگی پیدا کر دے گا اور اس کو ایسی ایسی جگہوں سے رزق پہنچائے گا جہاں حیث لا يحتسب (طلاق ۲) اس کا گمان بھی نہیں جاسکتا۔ یہ ایک بہت بڑی یقین دہانی ہے، یہ ایک عظیم انشورنس ہے جو خدا کی طرف سے اہل ایمان کو دیا گیا ہے۔ آج کا انسان سمجھتا ہے کہ صرف اس کا کھیت، اس کی دکان اور اس کی ملازمت واحد ذریعہ ہیں جو کسی کو رزق دیتے ہیں۔ اس کو خدا کے عظیم سرچشمے کی سرے سے خبر ہی نہیں۔ اس کو معلوم ہی نہیں کہ یہاں ایک اور خزانہ ہے جو تمام معلوم خوانوں سے زیادہ بھرا ہوا ہے۔ یہاں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page