خدمتِ دین کی مشکلات
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
اور دینے والا ہے جو تمام دینے والوں سے زیادہ دے سکتا ہے۔ اس لئے یہ لوگ خدا کے خزانے کو چھوڑ کر بس ادنیٰ خزانوں کے سامنے دامن پھیلائے کھڑے ہیں۔ وہ چھوٹے ذریعے کو پا کر خوش ہیں۔ حالانکہ وہ اس سے بڑا ذریعہ بھی حاصل کرسکتے تھے۔ موجودہ انسان کی مثال اس بے صبرے نوجوان کی سی ہے جس کو گھر پر باپ کی وراثت میں معقول زمین ملی ہو۔ مگر دیہات کے خشک ماحول سے گھبرا کر وہ بمبئی بھاگ جائے اور وہاں داشنگ فیکٹری میں کلرک کی حاصل کر کے سمجھے کہ میں نے اپنے رزق کا ذریعہ حاصل کر لیا۔ حالانکہ بمبئی کی اس ملازمانہ زندگی میں وہ جو کچھ حاصل کر رہا ہے، اس سے بہت زیادہ خود اپنے گھر پر وہ اپنے کھیتوں اور باغوں میں کام کر کے آزادانہ طور پر حاصل کر سکتا تھا۔ ۳- اب تیسری ضرورت کا تصور کیجئے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دائمی مشکلات میں پھنس گیا ہو۔ جب حالات سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو گیا ہو، جب باطل طاقتیں اس کو کچلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہوں۔ یہ ہمارے احتیاج کا نازک وقت ہوتا ہے۔ یہ وہ دقت ہوتا ہے جب دائمی کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورتِ حال کا احساس لے کر جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بار بار نازک اوقات میں اہل ایمان کی مدد کی ہے۔ بلکہ ایسے وقت میں مدد کے لئے پہنچا، اس نے اپنے اوپر اہل ایمان کا حق قرار دیا ہے۔ اهلِ ایمان کی مدد کرنا ہمارے اوپر اہلِ ایمان کا حق ہے كَانَ حَقّاً عَلَيْنَا نَنْصُرُ الْمُؤْمِنِينَ روم ۴۷ بندے کے لئے احتیاج کا انتہائی وقت، آقا کے لئے بھی اس کی طرف متوجہ ہونے کا انتہائی وقت ہوتا ہے یعنی کہ نازک اوقات میں وہ یہاں تک کرتا ہے کہ اپنی مخصوص فوج کو اہل ایمان کی کمک کے لئے روانہ کر دیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے : إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ ٴأَنِّي مُمِدُّكُم جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اللہ نے جواب دیا کہ میں بِأَلْفِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ (انفال - ۹) ہزار فرشتے بھیج کر تمھاری مدد کروں گا یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کے خادم حقیقی خادم پر خدا کے دشمن حملہ آور ہوں۔ انھوں نے اس کا نہ رُک کیا ہو، اور خدا بس دور سے اس کا تماشا دیکھتا رہے، یہ بالکل نا قابلِ تصور ہے۔ ایسے مواقع پر تو خدا کی غیرت و حمیت دوسرے مواقع کے مقابلے میں اندر زیادہ شدت کے ساتھ بھڑک اٹھتی ہے۔ مگر مدد کا یہ معاملہ صرف ایسے ہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو حقیقی خادم اور سچے وفادار ہوں۔ اکتوبر ۱۹۶۲ء میں جب تیز پور میں چینی حملہ کا خطرہ بہت بڑھ گیا تھا حکومتِ ہند کا ایک اعلیٰ افسر وہاں سے ڈر کر قبل از وقت بھاگ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے اس کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ اگر وہ جرأت اور وفاداری کے ساتھ اپنے مقام پر ڈٹا رہتا، تو ہو سکتا تھا کہ خطرہ پیش آنے کی صورت میں حکومت کا خاص ہوائی جہاز بھیجا جاتا کہ وہاں جا کر افسر اور اس کے خاندان کو شہر سے نکال لائے۔ یہ چند مثالیں یہ سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ کس طرح خدا نے اپنے دین کے خادموں کی تمام ضروریات و مسائل کا ذمہ لیا ہے۔ مگر یاد رکھیے قرآن میں ہماری ضرورتوں کے بارے میں یہ جو یقین دہانیاں کی گئی ہیں اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ خدا کے فرشتے ہر صبح دشام آسمان سے کھان لے کر اتریں گے اور ہمارے سامنے پھاڑ دیا کریں گے۔ اگر چہ ایسا بھی ہو سکتا ہے مگر عام حالات میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ نہیں ہے۔ ہماری احتیاجات کی تکمیل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی مدد کا مطلب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader