Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

ہمیں کیا کرنا ہے

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ خود غرضی اپنے آپ کو بدل چکا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ نظریہ ــ دعوت اور تربیت ــ دونوں کو ایک کر دیتا ہے۔ اس نظریہ کا آدمی جب دوسروں کو پکارتا ہے تو وہ خود اپنے آپ کو مخاطب کر رہا ہوتا ہے اور جب، وہ اپنے آپ کو مخاطب بناتا ہے تو اسی وقت اس کا تعلق دوسروں سے ہو جاتا ہے۔ اس نظریہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کارکن کو کبھی جمود میں مبتلا نہیں کرتا اور نہ اسے مایوس ہونے دیتا۔ جو شخص اس مقصد کے لئے اٹھتا ہے اس کے سامنے بنیادی طور پر جو چیز ہوتی ہے وہ آخرت ہے۔ وہ اس لئے عمل کرتا ہے تا کہ اپنی بعد کی زندگی کو بہتر بنائے، تاکہ آخرت میں خدا کی گرفت سے بچ سکے۔ یہ چیز اس کو نفع نقصان اور کامیابی دنیا کامی کے دنیوی تصور سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ وہ نتیجے کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنا کام صرف یہ سمجھتا ہے کہ کوشش کرتا رہے اور اسی کوشش میں اپنی جان دے دے۔ اس کی انتہائی تمنا صرف یہ ہوتی ہے کہ فرشتے جب اس کی رپورٹ لے کر خدا کے پاس جائیں تو اس سے عرض کریں کہ خدا ہرا تیرا بندہ تیرے حکم کی تکمیل میں سرگرم ہے۔ ایک شخص کوبی۔ اسے کرنے کے بعد روزگار نہ ملے تو وہ خود کشی کر لیتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک صرف تعلیم حاصل کرنا کامیابی نہیں ہے بلکہ تعلیم کے دنیوی فوائد کو حاصل کرنے کا نام کامیابی ہے۔ ایک سیاسی لیڈر کو اپنے مشن میں کامیابی نہ ہو تو وہ سیاست کا کام چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جاتا ہے اور اپنی ناکامی کے احساس کو مختلف قسم کے مشغلوں میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک نوجوان دنیا کے مسائل کو دیکھتا ہے، اس کے اندر جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ان کو حل کرے، اس جذبے کے تحت وہ "دنیا کی تعمیر کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ مگر چند سال بعد جب خود اپنی زندگی کے مسائل اسے گھیرتے ہیں اور اس سے اپنی تعمیل کا مطالبہ کرتے ہیں تو مسائل عالم کی اصلاح کا پروگرام اسے بھول جاتا ہے اور وہ اپنا گھر بنانے اور اپنے ذاتی مسائل کو حل کرنے میں لگ جاتا ہے۔ مگر جو شخص اللہ کے بندوں کو خدا کی طرف بلانے کے لئے اٹھتا ہو اس کے لئے ٹھہرنے اور مایوس ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ اس کا راستہ دنیا میں کہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ سیدھا آخرت تک جاتا ہے۔ وہ پہلے دن سے جانتا ہے کہ اس نے جس منزل کی طرف اپنا سفر شروع کیا ہے وہ اس وقت آتی ہے جب زندگی کی گاڑی اپنے آخری اسٹیشن پر پہنچ جائے ۔ وہ آخر وقت تک لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف پکارتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسی حال میں اپنے رب سے جانتا ہے۔ مومن کے نزدیک کامیابی یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے رب کی رضا کے لئے کام کرتا رہے، جب کہ دوسروں کے نزدیک کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی کوشش کے نتیجے کو پالیں ۔ حاشیہ نے صحرائی سفر میں قافلے بار بار منزل کرتے ہوئے چلتے ہیں چنانچہ وہ اس سفر میں کسی ہوشیار اور قابلِ اعتماد آدمی کو تیز رفتار سواری کے ذریعہ آگے بھیج دیا جاتا ہے تاکہ وہ معلوم کر کے آئے کہ اگلی منزلوں میں قافلے کو ٹھہرانے کی موزوں جگہ کون سی ہوسکتی ہے جو شخص اس کام کے لئے بھیجا جاتا ہے اس کو را ئد کہتے ہیں۔ نے عرب کی قبائلی زندگی میں جب کوئی شخص دیکھتا کہ دشمن اس کی قوم کے سرپر آگیا ہے اور اس کی دوڑ موتاکہ اب وہ حملہ کر دے گا تو وہ اپنے کپڑے پھاڑ دیتا اور ننگا ہو کر چلانا شروع کرتا کہ " دشمن آگیا، دشمن آگیا"، ایسے شخص کو " نذیر عریان" کہا جاتا تھا۔ یعنی ننگا ہو کہ ہوشیار کرنے والا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page