ہمیں کیا کرنا ہے
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے آدمی کو متحرک کرتا ہے۔ ہر دوسرے کام کا ایک خاص میدان ہے۔ یہ میدان جہاں موجود نہ ہوں وہاں کے کارکن بے دست و پا نظر آنے لگتے ہیں۔ مثلاً اشتراکیت ایسے ماحول میں اپنے آپ کو بے بس پاتی ہے جہاں مزدور اور سرمایہ دار کے درمیان جھگڑے نہ ہوں۔ آزادی کی تحریک کے لئے اس وقت کرنے کا کام کچھ نہیں رہتا جب بیرونی آقا ہٹ گئے ہوں اور ان کی جگہ ملکی آقاؤں نے لی ہو۔ مگر یہ نظریہ ایک ایسا وسیع اور ہمہ گیر نظریہ ہے جس کے لئے ہر وقت کرنے کا کام ہے اور ہر جگہ اس کے لئے کام کا میدان موجود ہے۔ پھر اس نظریے کی یہ خصوصیت بھی ہے کہ وہ سب سے پہلے خود داعی کو بدل دیتا ہے، جب کہ دوسرے نظریات کا حال یہ ہے کہ وہ صرف دوسروں سے تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں، خود اپنے پیروؤں کے اندر تبدیلی لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ چنانچہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک تحریک کچھ انسانوں کو جمع کرتی ہے تاکہ وہ غذائی قلت کے خلاف حکومت سے احتجاج کریں۔ مگر یہ افراد بجلی کے کھمبے توڑنا شروع کر دیتے ہیں، دکانوں کو لوٹتے ہیں، غلے کے گوداموں میں آگ لگا دیتے ہیں، ریلویوں اور بسوں کو چلنے سے روک دیتے ہیں۔ اس طرح ایک چیز کی قلت دور کرنے کے لئے وہ بے شمار قلتیں ملک میں پیدا کر دیتے ہیں اور ساری زندگی کو تہس نہس کرکے رکھ دیتے ہیں۔ وہ دوسروں کی جس برائی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں خود اسی میں لت پت ہوئے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس آنے والے دن کی گواہی دینے کے لئے جو لوگ اٹھتے ہیں ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کام کا آغاز خود اپنی ذات سے کرتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں سب سے پہلے خود اس پر عمل کرتے ہیں۔ تمام اصلاحی اسکیمیں یہاں پہنچ کر ناکام ہو جاتی ہیں کہ اپنے پروگرام کے نفاذ کے لئے جن انسانوں سے انہیں کام لینا ہے وہ خلوص اور بے غرضی کے ساتھ ان کو نافذ کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انقلابی اسکیمیں کسی نہ کسی مقام پر پہنچ کر اپنے مخالف سے سمجھوتہ کرلیتی ہیں۔ بادشاہوں کے اقتدار کے خلاف اٹھنے والی تحریکیں سیاسی لیڈروں کے اقتدار پر آکر ٹھہر جاتی ہیں۔ نجی مالکوں کی سرمایہ داری سے بغاوت کرنے والے دولت اور زمین کو اشتراکی متولیوں کے حوالے کرکے خاموش ہوجاتے ہیں۔ مگر یہ نظریہ وہ واحد نظریہ ہے جو انسان کے اندر حقیقی تبدیلی پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ وہ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ اپنے عقیدہ کو عمل بنائے اور ساری زندگی اس پر عمل کرتا رہے۔ دوسرے نظریات عام طور پر صرف تنقید کا جذبہ ابھارتے ہیں، جب کہ آنے والے دن کا تصور عمل کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اس نظریہ پر ایمان لانے کے بعد آدمی مجبور ہوتا ہے کہ سب سے پہلے خود عمل کرے جب کہ دوسرے نظریات صرف دوسروں سے عمل کا تقاضا کرتے ہیں، ان کے اندر ایسا کوئی محرک نہیں ہوتا جو داعی کو خود عمل کرنے پر ابھارتا ہو۔ مگر جس شخص کو اس حقیقت نے متحرک کیا ہو کہ موجودہ زندگی امتحان کی زندگی ہے، ہم آزاد نہیں ہیں کہ جو چاہیں کرتے رہیں۔ بلکہ ہمارے تمام کھلے اور چھپے اعمال کا ایک روز حساب لیا جانے والا ہے۔ ایسا شخص عین اپنے ایمان کے تقاضے سے مجبور ہوتا ہے کہ اپنی پوری زندگی کو درست کرے، اپنے آپ کو آخری حد تک مقصد کی خدمت میں لگادے۔ دوسروں کو بدلنے کی دعوت دینے کے ساتھ خود بھی اپنے آپ کو بدل ڈالے۔ کیوں کہ اس کے بغیر وہ اپنی کامیابی کا تصور نہیں کرسکتا۔ صرف دوسروں کی تبدیلی اس کی نجات کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس کی نجات تو اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader