صبر ایک ابدی حکم
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر ایک ابدی حکم ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے دین میں صبر کی اہمیت کا ذکر کیا اور صبر سے متعلق قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے فوراً کہا: صبر کی آیتیں تو مکی دور میں اُتری تھیں۔ ہجرت کے بعد صبر کا حکم منسوخ کر دیا گیا اور جہاد و قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ اب ہم دور صبر میں نہیں ہیں۔ اب ہم دور جہاد میں ہیں۔ اب ہمارے تمام معاملات جہاد کے ذریعے درست ہوں گے اور یہی کام ہمیں کرنا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے جس میں بے شمار لوگ مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ابدی حکم ہے۔ اس کا تعلق ہر دور اور ہر زمانے سے ہے۔ صبر تمام دینی اعمال کا خلاصہ ہے۔ آدمی کوئی دینی عمل صحیح طور پر اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ اس کے اندر صبر کا مادہ ہو۔ جس آدمی سے صبر رخصت ہو جائے، وہ کوئی بھی دینی کام صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے سکتا، خواہ وہ کلمہ توحید پر استقامت کا معاملہ ہو یا میدانِ مقابلہ میں شجاعت کا معاملہ۔ یا اور کوئی معاملہ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے، اور علی الاطلاق طور پر اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں صبر کا مادہ ایک سو سے زیادہ بار استعمال کیا گیا ہے۔ سورہ البقرہ ایک مدنی سورہ ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ تم لوگ صبر اور نماز سے مدد لو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوٰةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ۔(2:153) حدیث میں صبر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک متفق علیہ روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader