راہِ عمل
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وہ زمانہ ہے جس کے مطالعے سے دعوت کے آداب اور اس کے طریقے صحیح طور پر معلوم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد خلافت کا زمانہ آتا ہے جو گو یا صحیح معنی میں نائبیں رسول کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ سے شروع ہوتا ہے اور حضرت علی ابن ابی طالب پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد مؤرخین اسلام کے مطابق ملوکیت کا دور ہے۔ یہ زمانہ حضرت امیر معاویہ سے شروع ہوا اور آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ ان تینوں دوروں میں جو اسلامی کردار مطلوب ہے، اس پر قائم ہونے کے لیے یکساں طور پر صبر کی اہمیت ہے۔ یہاں ہم تینوں دوروں کے بارے میں کلام کریں گے۔ پہلے دونوں دوروں کے بارے میں مختصر طور پر اور تیسرے دور کے بارے میں زیادہ مفصل طور پر۔ دعوت کا دور محمد بن اسحق بیان کرتے ہیں کہ بیعت عقبہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور خون بہانا آپ کے لیے حلال نہیں کیا گیا تھا۔ آپ کو حکم تھا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں۔ اور تکلیفوں پر صبر کریں۔ اور جاہلوں سے روگردانی کریں۔ قریش کا یہ حال تھا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ آپ کی پیروی کرتے وہ ان پر ظلم کرتے۔ ان کے دین کے بارے میں انہیں سخت آزمائش میں مبتلا کرتے۔ قریش نے ان کو ان کی بستیوں سے نکال دیا۔ چنانچہ آپ کے پیروؤں میں سے کچھ لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہو گئے۔ اور کچھ لوگ قریش کے ہاتھ سے تکلیفوں کا شکار ہوئے۔ اور کچھ لوگ ان سے بچنے کے لیے دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ایک جماعت حبش چلی گئی۔ کچھ لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یا اور کسی طرف چلے گئے۔ جب قریش نے اس طرح اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اللہ نے ان کے لیے جس عزت کا ارادہ کیا تھا اس کو رد کر دیا، اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ اور ان لوگوں کو تکلیف دی اور جلا وطن کیا جنہوں نے اللہ کی عبادت کی اور اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader