راہِ عمل
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مانا اور اس کے دین کو مضبوطی سے پکڑلیا، اس وقت اللہ نے اپنے رسول کو جنگ کی اجازت دی اور ان لوگوں کے لیے حفاظت اور مدد کا وعدہ کیا جن پر ظلم اور زیادتی ہو رہی تھی۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس اجازت کے بارے میں سب سے پہلے سورہ الحج ( آیت 41-39 اتاری گئی ۔ (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 75) مکہ کا دور، دعوت کا دور تھا۔ اس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو حکم تھا کہ اپنی ساری توجہ صرف دعوت پر مرتکز رکھیں۔ غیر مسلموں کی طرف سے خواہ کتنی ہی دل آزاریاں کی جائیں اور کتنی ہی تکلیفیں پہنچائی جائیں ان پر کوئی ردّ عمل ظاہر نہ کریں۔ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں ۔ یک طرفہ طور پر صبر و برداشت پر قائم رہتے ہوئے دعوت کا مثبت کام جاری رکھیں ۔ دعوت کا کام اس وقت تک انجام نہیں پاسکتا جب تک داعی کے دل میں مدعو کی خیر خواہی نہ ہو۔ یہ خیر خواہی اتنی زیادہ ہونی چاہیے کہ مدعو کی زیادتیوں کے باوجود اس کے حق میں داعی کے دل سے ہدایت کی دعائیں نکلتی رہیں ۔ چنانچہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا اور آپ پر پتھر مارے ۔ ان کے بارے میں آپ نے یہ دعا فرمائی کہ خدایا ، میری قوم کو ہدایت دے، وہ نہیں جانتے: رَبِّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۔ (تفسیر ابن ابی حاتم ، جلد 10، صفحہ 3192) خلافت کا دور خلافت کا دور اقتدار کا دور ہے۔ اقتدار، عین اپنی طبیعت کے اعتبار سے بہت سی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔ اس لیے دور خلافت (دور اقتدار) میں صبر کی اہمیت ہمیشہ سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ 1 ۔ دور خلافت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر عہدوں کی طلب بڑھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader