Urdu book · راہِ عمل

خلافت کا دور

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

2۔ حکومت ایک ایسی چیز ہے جس کا تعلق پورے ملک سے ہوتا ہے۔ ملک میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے بھی اور برے بھی، جاہل بھی اور عالم بھی، نرم بھی اور سخت بھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خلیفہ (حکمران) کو لوگوں کی طرف سے تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خلیفہ اگر لوگوں کی تنقیدوں کو برداشت نہ کرے اور اس کو ذاتی انتقام کا مسئلہ بنا لے تو وہ کبھی انصاف نہیں کر سکتا۔ خلیفہ کو عدل پر قائم رکھنے کے لیے لازمی طور پر یہ صفت درکار ہے کہ وہ لوگوں کی تنقیدوں کو برا نہ مانے۔ لوگوں کی سخت کلامی کے باوجود وہ ان کے ساتھ نرمی اور اعتدال کا رویہ اختیار کرے۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر کے ایک سرکاری فرمان کو ایک بار حضرت عمر نے سرِ عام پھاڑ کر پھینک دیا مگر خلیفہ اول نے اس کو برا نہیں مانا اور نہ اس بنا پر ان کے دل میں عمر فاروق کی اہمیت کم ہوئی۔ (تاریخ دمشق، جلد 9، صفحہ 196-195) حضرت عمر فاروق جب خلیفہ ہوئے تو بار بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے ان پر سخت الفاظ میں تنقیدیں کیں۔ مگر حضرت عمر نے کبھی ان کے خلاف منفی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ مثلاً ایک بار تقریر کے دوران سرِ عام ایک شخص نے کہا کہ اگر ہم تمہارے اندر ٹیڑھی دیکھیں گے تو ہم اپنی تلوار سے تمہیں سیدھا کر دیں گے۔ خلیفہ ثانی اس پر غصہ نہیں ہوئے بلکہ یہ کہا کہ اس خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ایک ایسی قوم میں بنایا کہ اگر میرے اندر انحراف پیدا ہو تو وہ اپنی تلواروں سے مجھے سیدھا کر دے۔ (الزھد والرقائق لابن المبارک، اثر نمبر (512) خلیفہ کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کا یہ مادہ انتہائی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بغیر وہ ملک اور قوم کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔ مگر یہ اعلیٰ صفت کسی شخص کے اندر اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ اس میں صبر کا مادہ موجود ہو۔ صبر کسی خلیفہ کو عدل پر قائم رکھتا ہے، اگر اس کے اندر صبر نہ ہو تو کوئی بھی چیز اس کو ظلم کی راہ پر جانے سے روک نہیں سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page