خلافت کا دور
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتی ہے۔ ہر آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو ایک اچھا سیاسی عہدہ مل جائے۔ اگر یہ مزاج باقی رہے تو خلافت کا پورا نظام برباد ہو کر رہ جائے گا۔ یہاں صبر (اپنی خواہشات کو روکنا) اس بات کی ضمانت ہے کہ خلافت کے دور میں عہدوں کی طلب کی برائی نہ پیدا ہو۔ عہدے اگر اہلیت کی بنیاد پر دیے جائیں تو اس سے خلافت کا نظام طاقت ور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عہدے اگر خواہشات کی بنیاد پر دیے جانے لگیں تو خلافت کا پورا نظام کمزور ہو کر رہ جائے گا۔ ایسی حالت میں خلافت کے نظام کو صحت مند حالت پر باقی رکھنے کے لیے صبر کی صفت انتہائی طور پر ضروری ہے۔ دور اول میں اس کی ایک عظیم الشان مثال انصار کا اس پر راضی ہونا ہے کہ وہ عہدہ خلافت کے معاملے میں قریش سے نزاع نہیں کریں گے۔ انصار نے اسلامی انقلاب لانے کے لیے یکساں طور پر قربانیاں دی تھیں ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بد جب یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ کس شخص کو خلیفہ بنایا جائے تو حضرت ابو بکر صدیق نے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ خلیفہ قریش میں سے ہو۔ اگر قریش کے باہر کسی کو خلیفہ بنایا جائے تو، تاریخی روایت کی بنا پر، اہل عرب کے لیے وہ قابل قبول نہ ہوگا اور لوگ اس کی اطاعت سے انکار کر دیں گے۔ انصار نے اس مصلحت کی اہمیت کو محسوس کیا اور خلافت کے مطالبہ سے دست بردار ہو گئے ۔ انصار کا یہ فعل بلاشبہ اسلامی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے۔ اگر وہ اپنی قربانیوں کی فہرست بتا کر عہدۂ خلافت کے لیے اصرار کرتے تو یقینی تھا کہ مسلمان اقتدار کی رسہ کشی میں مشغول ہو جاتے اور اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے مدینہ میں دفن ہو جاتی ۔ یہ واقعہ بلاشبہ صبر کا واقعہ ہے ۔ انصار کے اندر اگر صبر کا مادہ نہ ہوتا تو وہ ہر گز یہ عظیم الشان کارنامہ انجام نہیں دے سکتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader