دعوت کی اہمیت
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوت کی اہمیت اسلام کی ابتدائی ہزار سالہ تاریخ غلبہ اور فتوحات کی تاریخ تھی۔ مگر اس کے بعد کی موجودہ تاریخ حیرت انگیز طور پر شکستوں اور ہزیمتوں کی تاریخ بن گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں شہرت اور مقبولیت کے اعتبار سے مسلمانوں نے بہت بڑی بڑی شخصیتیں پیدا کیں، مذہبی بھی اور سیکولر بھی، بے ریش بھی اور باریش بھی ، ان لوگوں نے بہت سی عظیم تحریکیں اٹھائیں اور بے شمار قربانیاں دیں ، مگر نتیجہ مکمل طور پر صفر ہے، مسلمانوں کی مغلوبیت میں ایک فیصد بھی کمی نہیں ہوئی ۔ بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایسا واضح واقعہ ہے جو ہر شخص کو معلوم ہے، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ۔ تاہم معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں ہم چند مثالیں نقل کریں گے۔ قربانیاں بے نتیجہ رہیں 1۔ سید احمد بریلوی (1786-1831) اور ان کے ہزاروں ساتھیوں نے پنجاب کی سکھ اسٹیٹ ( مہاراجہ رنجیت سنگھ ) کے خلاف مسلح اقدام کیا۔ مگر ان کا اقدام مکمل طور پر ناکام رہا۔ سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھی 1831 میں بالا کوٹ کے میدان میں بری طرح ہلاک کر دیے گئے۔ سکھ ریاست اپنی پوری شان کے ساتھ بدستور قائم رہی۔ اس کے بعد اسی سکھ ریاست سے انگریزوں کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ میں انگریز مکمل طور پر کامیاب رہے۔ 1846 میں انگریزوں کی کامیابی اس نوبت کو پہنچ گئی کہ سکھوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ ایک انگریز ریزیڈینٹ لاہور میں رہے۔ 1849 میں انگریز سکھ ریاست کو آخری طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سکھوں کے اوپر انگریزوں نے اتنا زیادہ قابو پایا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader