Urdu book · راہِ عمل

راہِ عمل

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

پانی اگر کسی گڑھے میں رک جائے تو کچھ دنوں کے بعد اس میں بدبو پیدا ہو جائے گی۔ مگر جاری پانی ہمیشہ تازہ پانی رہتا ہے، اس میں کبھی بدبو نہیں پیدا ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹہرا ہوا پانی یکساں پانی ہوتا ہے۔ جب کہ چشمہ یا دریا کے جاری پانی میں ہر وقت پرانے پانی میں نیا پانی شامل ہوتا رہتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی جماعت کا ہے۔ مسلمانوں کا کوئی گروہ اگر محدود قوم کی صورت اختیار کر لے تو وہ دھیرے دھیرے جامد گروہ بن جائے گا جو اعلیٰ انسانی اوصاف سے خالی ہوگا۔ مگر جب اس میں پرانے افراد کے ساتھ نئے افراد ملتے رہیں تو وہ مسلسل طور پر زندہ اور فعال گروہ بنا رہتا ہے۔ اب وہ بند گڑھا نہیں رہتا، بلکہ بہتا ہوا دریا بن جاتا ہے جس کی تازگی کبھی ختم نہ ہو، جس کی حرکت اور فعالیت ہمیشہ باقی رہے۔ آخری بات موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں حیرت انگیز طور پر انتہائی ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔ مسلمان جب بھی کوئی تحریک اٹھاتے ہیں تو خدا ان کے گھروندے کو ٹھوکر مار کر گرادیتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ تمام سرگرمیاں خدا کی نظر میں بالکل نا مطلوب ہیں۔ اس بنا پر وہ ان کو حرف غلط کی طرح مٹا رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہے تا کہ مسلمان جاگیں اور اس اصل کام کے لیے سرگرم ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ کو اصلاً مطلوب ہے ؀ شہادتِ حق اور دعوت الی اللہ، اپنے ربانی معنی میں، نہ کہ موجودہ قومی اور سیاسی معنی میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page