دعوت شاہ کلید
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
3۔ دعوتی عمل کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو دوامی ارتقا کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان ٹکراؤ داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذہنی اور عملی اعتبار سے مدعو کے مقابلے میں فائقم تر ثابت کرے۔ اس کے دلائل فریق ثانی کے دلائل سے زیادہ قوی ہوں۔ اس کی عملی تدبیریں فریق ثانی کی عملی تدبیروں پر سبقت لے جانے والی ہوں۔ یہ صورت حال داعی کو مستقل طور پر ایک قسم کے علمی اور عملی ارتقا کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔ 4۔ دعوتی عمل کا ایک نہایت اہم اخلاقی فائدہ یہ ہے کہ وہ داعی کو ساری انسانیت کا خیر خواہ بنا دیتا ہے۔ اس کے تجربات بتاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو محبت اور شیریں کلامی کے ذریعے جیت سکتا ہے، نہ کہ نفرت اور تلخ گوئی اور مشتعل مزاجی کے ذریعہ۔ یہ چیز اس کو لوگوں کے حق میں سراپا شفیق اور خیر خواہ بنا دیتی ہے۔ اس کا دعوتی عمل اس کے لیے عظیم اخلاقی تربیت بن جاتا ہے۔ ایک تاجر تجارت کرتا ہے تو اس کا تجارتی عمل عین اپنی فطرت کے نتیجے میں اس کو بردبار اور شیریں کلام بنا دیتا ہے۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ جب ایک شخص دعوتی میدان میں داخل ہوتا ہے تو اس کام کے تقاضے کے تحت وہ اپنے آپ حسن اخلاق کا نمونہ بنتا چلا جاتا ہے، کسی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ خدا تجارت کو اپنا مبلغ بناتا ہے: “God is making commerce His missionary.” 5۔ دعوت کے عمل کا ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے نئے نئے افراد کھنچ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں، اس طرح مسلم گروہ کو مسلسل وہ قیمتی چیز ملتی رہتی ہے جس کو نیا خون (new blood) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader