راہِ عمل
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
تک پہنچار ہا ہے۔ مدعو کے اوپر دعوت کا کام کر کے اس نے صرف ایک خدائی ذمہ داری کو ادا کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور حیثیت اس کے عمل کی نہیں ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں نصح اور امانت کی یہ دونوں صلاحیتیں ختم ہو گئی ہیں۔ حتی کہ ان کے اکابر تک کے اندر ان کا وجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں حقیقی دعوتی عمل کا ظہور نہ ہوسکا۔ یہاں اس کی وضاحت کے لیے ان دونوں پہلوؤں کی ایک ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔ احساس نصح کا فقدان مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی ایک کتاب سیرت کے موضوع پر ہے۔ اس کا نام سیرت مصطفیٰ ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی کے ”کلمات بابرکات“ بطور تصدیق شامل ہیں۔ یہ کتاب دوسری بار 1980 میں دیوبند سے شائع ہوئی ہے۔ مصنف نے ایک مقام پر ان لوگوں کا جواب دیا ہے جو اسلام میں قتال کو دفاعی سمجھتے ہیں۔ مصنف کا خیال ہے کہ قتال (یا جہاد فی سبیل اللہ) ایک ہجومی اور اقدامی فعل ہے۔ وہ ”قانون خداوندی کو علی الاعلان جاری کرنے کے لیے“ کیا جاتا ہے، نہ کہ محض دشمنوں کے مقابلے میں اپنی حفاظت اور مدافعت کے لیے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” کیا خلفاء راشدین کے تمام جہادات دفاع تھے۔ کوئی جہاد ان میں سے اقدامی نہ تھا۔ اور کیا سلاطین اسلام کے ہندوستان پر حملے بھی اقدامی نہ تھے۔ ایک ہزار سال قبل کیا کسی لالہ رام اور دھوتی پرشاد کی مجال تھی کہ وہ کسی اسلامی حکومت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کا تصور بھی کر سکے اور شاہان اسلام ان کی مدافعت کے لیے اٹھیں۔ “ (صفحہ 10)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader