راہِ عمل
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
اس عبارت میں ”لالہ رام اور دھوتی پرشاد“ کا جو انداز ہے، وہ بتا رہا ہے کہ مصنف کے دل میں غیر قوم کے لیے کس قدر تحقیری اور غیر ہمدردانہ جذبہ بھرا ہوا ہے۔ یہی موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ اقوامِ غیر کے لیے ان کے سینے میں نفرت اور تحقیر کے سوا اور کچھ نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی تمام تقریروں اور تحریروں میں یہ جذبات دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے دوسری قوموں کے لیے نصح اور خیر خواہی کا جذبہ کھو دیا ہے۔ یہ احساس اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید اس میں کوئی استثناء نہیں۔ اقوامِ غیر کے لیے اس غیر ہمدردانہ نفسیات کی موجودگی میں یہ ناممکن ہے کہ ان کے لیے مسلمانوں میں کسی حقیقی دعوتی عمل کا ظہور ہو سکے۔ احساسِ امانت کا فقدان پروفیسر مسعود الحسن (پاکستان) کی ایک انگریزی کتاب ڈاکٹر سر محمد اقبال کے بارے میں ہے۔ اس کا نام ہے ــــ حیاتِ اقبال (Life of Iqbal)۔ اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ سر محمد اقبال 14 جنوری 1929ء کو بذریعہ ٹرین حیدر آباد پہنچے۔ وہاں ریلوے اسٹیشن پر ان کو شاہانہ استقبال دیا گیا۔ پلیٹ فارم پر کھڑے ہوئے طالب علموں نے اقبال کے اس شعر کو گا کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا: چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا 15-17 جنوری کو اقبال نے حسب ذیل موضوع پر عثمانیہ یونیورسٹی میں توصیلی لیکچر دیے: "Reconstruction of Religious Thought in Islam" 18 جنوری 1929 کو اقبال کی ملاقات نظام حیدر آباد سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران نظام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader